وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی کی پنجاب کے وزیر خزانہ مخدوم ہاشم اور وزیر توانائی محمد اختر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کی نام نہاد تجربہ کار ٹیم نے پنجاب میں 1200 ارب روپے کا خسارہ چھوڑااور معیشت کو شدید بحران سے دوچار کیا، 70 ارب کے چیک باﺅنس ہوئے، تریموں پاور پراجیکٹ بغیر معاہدوں کے شروع کیا جس میں 142 ارب روپے ڈوبنے کا خدشہ تھا …

اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کی نام نہاد تجربہ کار ٹیم نے پنجاب میں 1200 ارب روپے کا خسارہ چھوڑااور معیشت کو شدید بحران سے دوچار کیا، 70 ارب کے چیک باﺅنس ہوئے، تریموں پاور پراجیکٹ بغیر معاہدوں کے شروع کیا جس میں 142 ارب روپے ڈوبنے کا خدشہ تھا جبکہ 10 ارب کی گارنٹی بھی نکال لی گئی جو ملک و قوم کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پنجاب کے وزیر خزانہ مخدوم ہاشم اور وزیر توانائی محمد اختر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پنجاب کے صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ملک کو لوٹا، (ن) لیگ نے بجلی کا وعدہ کرکے انتخاب لڑا اور قومی نظام میں 10 ہزار میگاواٹ بجلی شامل کرنے کا شوشہ چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی حکومت نے تریموں پاور پراجیکٹ کا ایک منصوبہ شروع کیا اور 1200 میگاواٹ کا منصوبہ بغیر معاہدوں کے شروع کیا گیا، اس میں توانائی کی خریداری کا کوئی معاہدہ ہوا نہ ہی اس میں گیس کی خریداری سمیت بینکوں کو شامل کیا گیا، نجی شعبہ کی شمولیت کے بغیر ہی آنکھیں بند کرکے اس منصوبہ میں قوم کے اربوں روپے اڑانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ حکومت کی نام نہاد تجربہ کار ٹیم کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے اس منصوبہ کا 142 ارب روپے کا بوجھ حکومت پنجاب پر پڑے گا، وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اس منصوبہ پر بات چیت ہوئی تاکہ اس منصوبہ کو مکمل کرکے قوم و ملک کا پیسہ بچایا جائے اور مو¿ثر منصوبہ بندی کے ساتھ اس منصوبہ کو آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت بروقت اس منصوبہ کے حوالہ سے ہوم ورک نہ کرتی تو قوم کے اربوں روپے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔ گذشتہ حکومت نے اس حد تک بے حسی کا مظاہرہ کیا کہ جب خاقان عباسی وزیر پٹرولیم تھے تو انہوں نے 10 ارب کی گارنٹی بھی نکال لی۔ پنجاب کے وزیر توانائی محمد اختر نے کہا کہ ہمیں قابل تجدید توانائی کے منصوبے لگانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہو لیکن بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ گذشتہ حکومت نے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر قدغن لگائی اور مہنگے داموں تیل خرید کر زرمبادلہ خرچ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز حکومت نے عوام کے ساتھ غلط بیانی کی اور الیکشن بجلی کے ایجنڈے پر لڑا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہماری حکومت توانائی کے مختلف منصوبوں کو مکمل کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تریموں پاور پراجیکٹ بغیر تکمیل کی گارنٹی کے شروع کیا گیا کیونکہ ان کے پاس کوئی تجربہ کار ٹیم نہیں تھی، محض گڈ گورننس کے نعرے لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان منصوبوں کو تبدیل نہیں کر سکتے مگر مو¿ثر حکمت عملی کے تحت بہتری لائیں گے تاکہ ملک و قوم کا پیسہ پیداوار مقاصد کیلئے خرچ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر توانائی محمد اختر نے کہا کہ بجلی کی طلب و رسد میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، بہتر حکمت عملی کے تحت اس فرق پر قابو پا لیں گے، وفاقی حکومت کچھ پاور پلانٹس کی نجکاری سے متعلق غور و غوض کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر منصوبے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں، گذشتہ ادوار میں بہاولپور سولر منصوبہ مہنگا لگایا گیا جبکہ اس دور میں لگنے والا ایسا ہی منصوبہ دبئی میں لگا جو سستا ترین تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کرپشن برداشت نہیں کرے گی، جس جگہ کرپشن نظر آئے گی اس کو عوام کے سامنے بھی لائیں گے اور متعلقہ اتھارٹیز کے پاس بھی لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے جس بے رحمی سے ملک و قوم کو لوٹا اس کی مثال نہیں ملتی، آج وہ لوگ بڑی تنقید کرتی ہیں جبکہ ان کا ماضی کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے، ان کی گڈ گورننس کی باتیں محض نعرے ہی تھیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کی نام نہاد تجربہ کار ٹیم نے اپنی ناتجربہ کاری سے پنجاب میں 1200 ارب روپے کا خسارہ چھوڑ کر معیشت کو شدید بحران سے دوچار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت معیشت سمیت تمام شعبوں کی ترقی و بہتری کیلئے مو¿ثر حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔

Leave a Reply