وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کی نجی ٹی وی سے گفتگو

اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن اور پی ڈی ایم کے اعصاب پر سوار ہو چکے ہیں،انہیں برسیوں پر بھی عمران خان یاد آتے ہیں، بینظیر نوازشریف کو ڈکٹیٹر کہتی تھیں،نوازشریف بینظیر بھٹو کیلئے کیا رائے رکھتے تھے میں وہ الفاظ بھی ادا نہیں کرسکتا، وزیراعظم نے 12 سال پہلے ہی کہہ دیا تھا یہ …

اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن اور پی ڈی ایم کے اعصاب پر سوار ہو چکے ہیں،انہیں برسیوں پر بھی عمران خان یاد آتے ہیں، بینظیر نوازشریف کو ڈکٹیٹر کہتی تھیں،نوازشریف بینظیر بھٹو کیلئے کیا رائے رکھتے تھے میں وہ الفاظ بھی ادا نہیں کرسکتا، وزیراعظم نے 12 سال پہلے ہی کہہ دیا تھا یہ سارے اکٹھے جائیں گے، اپوزیشن دو سال یہ خاموش رہی کہ شاید وزیراعظم ایک نہ ایک دن انہیں این آر او دے دیں گے۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے نیب کی شقوں کی شکل میں این آر او مانگا ،قوم کے سامنے رکھ دیا ہے کہ کن کن پی پی پی اور ن لیگ کے لیڈروں نے نیب کی شقوں پر اعتراض کرکے این آر او مانگا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی اپنی جماعت کے لیڈروں نے ہی انہیں سلیکٹڈ کہہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی اور ن لیگ دونوں جماعتوں کی لیڈر شپ کو کرسی کتنی پیاری ہے ماضی میں ان کی ایک دوسرے کی رائے کیسی ہوتی تھی اس سے دیکھا جاسکتا ہے۔ عثمان ڈار نے کہا کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کی سوائے نواشریف کی بیٹی اور آصف زرداری کا بیٹا ہونے کے علاوہ کیا اہلیت ہے، وزیراعظم نے 22 سال تک جدوجہد کی ان کی زندگی کامیابیوں سے بھری پڑی ہے۔ عثمان ڈار نے کہا کہ نوازشریف قطری خط لے کر آئے،کیلبری فانٹ لائے ،مریم کہتی تھیں کہ ان کا کیا میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں اب سب کچھ سامنے آرہا ہے۔ استعفوں کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر استعفیٰ دینا چاہتے ہیں تو آج استعفی دیں ان کا وہم ہے کہ وزیراعظم استعفوں کی بلیک میلنگ میں آئیں گے، جہاں جہاں سے یہ استعفے دیں گے ہم وہاں وہاں ضمنی الیکشن کروا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جلسہ اسپیشلسٹ ہے لیکن آخر میں ہمیں بھی پارلیمنٹ میں ہی آ کر بات کرنا پڑی، اس لئے انہیں کہتے ہیں پارلیمنٹ میں آئیں بات کریں ۔

مزید خبریں