اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ 16 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ بدترین دن ہے جس نے پہلے 1971ءمیں ملک کو دولخت کیا اور پھر دو سال قبل اسی روز آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ رونما ہوا جس میں چند خونی درندوں نے معصوم پھولوں اور کلیوں کی شکل میں ہم سے …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی کا اے پی ایس پشاور کے شہداءکی یاد میں منعقدہ قرآن خوانی اور خصوصی دعائیہ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ 16 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ بدترین دن ہے جس نے پہلے 1971ءمیں ملک کو دولخت کیا اور پھر دو سال قبل اسی روز آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ رونما ہوا جس میں چند خونی درندوں نے معصوم پھولوں اور کلیوں کی شکل میں ہم سے ہماری نعمتیں اور رحمتیں چھین لیں، دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بچوں کے لواحقین صرف ان کے والدین نہیں بلکہ پوری 20 کروڑ پاکستانی عوام ہیں، آج کے دن پوری قوم پرعزم ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے زیر اہتمام سانحہ اے پی ایس پشاور کے شہداءکی یاد میں منعقدہ قرآن خوانی اور خصوصی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کو دو سال بیت چکے لیکن آج بھی قوم افسردہ ہے، شہید ہونے والا ہر بچہ اپنے باغ کا پھول تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا سانحہ تھا جس پر میں نے خود وزیراعظم کو آبدیدہ دیکھا اور اس سانحہ نے پوری قوم کو متحد کیا۔ ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پاک فوج نے جو آپریشن ضرب عضب شروع کیا اس کے نتیجہ میں پاکستان دہشت گردی کے چنگل اور عذاب سے باہر نکل رہا ہے اور دہشت گرد بھاگ رہے ہیں۔








