"ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی کی زیرِ صدارت اجلاس میں 35 ارب روپے سے زائد مالیت کے 18 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن کا مقصد صوبے میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنا اور عوامی سہولیات میں بہتری لانا ہے۔”
پشاور،ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی کی زیر صدارت اجلاس ، 35 ارب روپے سے زائد کے 18 منصوبوں کی منظوری

مزید خبریں
پشاور۔ 29 جولائی (اے پی پی):ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اسلام زیب کی صدارت میں صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 35 ارب روپے سے زائد کے 18 منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات پر ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رسائی کے لیے 5 ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کا منصوبہ منظور کیا گیا۔ ان سڑکوں کی تعمیر سے سیاحت کے شعبے کو فروغ ملے گا اور مقامی کاروبار و معیشت کو تقویت حاصل ہوگی۔ نئے روڈ انفراسٹرکچر سے سیاحتی مقامات تک رسائی آسان ہوگی، سفری وقت میں کمی آئے گی اور سیاحوں و مقامی آبادی کے لیے محفوظ اور ہموار سفر یقینی بنایا جا سکے گا۔ضلع سوات میں منظور شدہ منصوبوں میں شاہی باغ اتروڑ روڈ کی اپ گریڈیشن، کو شنکو درہ روڈ کی تعمیر، داد سر روڈ کی تعمیر، منگو کروڑئی کنڈاو روڈ کی تعمیر، سولتنر روڈ کی تعمیر اور گبین جبہ روڈ کی تعمیر نو و بحالی شامل ہیں۔ ضلع دیر بالا میں اشریت گوالدئی سے سربانڈہ سمات شاہی تک روڈ کی تعمیر، ڈنکر جاندرے سے کٹورا جھیل تک روڈ کی تعمیر اور برکند اوشیرئی سے کنڈاو ٹاپ تک روڈ کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے۔ ضلع دیر پائین میں سیا سے حیدر کنڈاو روڈ پی کے-15 کی تعمیر، اسو روڈ کی تعمیر، منائی جاکڑ بابا روڈ کی تعمیر، اوسکئی برچرئی روڈ کی تعمیر، مینہ سر بالا سے دشت لیلا روڈ کی تعمیر، باغ سے نرئی کنڈاو روڈ کی تعمیر اور ضیام آسمان شان خوشحال پٹے ٹاپ روڈ کی تعمیر شامل ہے۔ جبکہ ضلع چترال بالا میں قاقلشٹ میڈوز روڈ کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے۔اجلاس میں فورم کے ممبران اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں روڈز کے شعبے کے اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی جن میں ضلع بنوں میں حوید تا تختئی خیل روڈ اور مین ہبک سورانی روڈ سے پولیس چوکی ہبک اور بات چوک سے منڈوری مٹوٹ اللہ شاہ سرنی تک سڑک کی تعمیر و فزیبلٹی سٹڈی، چشمہ تا دراتنگ روڈ براستہ کافر کوٹ کی بہتری و بحالی، ضلع خیبر میں تین آر سی پلوں اور لنک روڈز کی تعمیر اور الحاج شیل پمپ سے تیرا مین اور لنک روڈز تک 10.5 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر اور بلیک ٹاپنگ، پشاور یونیورسٹی روڈ سے رینگ روڈ تک لنک روڈز کی تعمیر، انڈس ہائی وے سے بنوں سٹی تک 26 کلومیٹر روڈ کو دو رویہ کرنے کے لیے فزیبلٹی سٹڈی اور تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن، ضلع بنوں میں باران ڈیم سے جانی خیل اور پولیس سٹیشن میریان سے ہوالا روڈ کی بحالی اور تعمیر نو، ضلع ہری پور کی تمام یونین کونسلوں میں اندرون سڑکوں کی تعمیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اجلاس میں تحصیل مٹہ سوات میں پبلک پارک کے قیام، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں واٹر چارجز کلیکشن کے لیے ای-گورننس سیل اور سی بی آئی ایس کے قیام، اے آئی پی اور کے پی کے ذریعے عام شہری کا خاص منصوبہ اور انسٹیوٹ آف پیٹرولیم ٹیکنالوجی کے قیام کی سکیموں پر بھی منظوری دی گئی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری اسلام زیب نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منظور شدہ منصوبوں پر عملدرآمد میں شفافیت، معیار اور مقررہ مدت کی پابندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔








