اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی ڈی اے علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ وائٹ کالر کرائم کے خاتمے کے لئے نیب قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے‘ پاکستان کے کرتار پور راہداری کو کھولنے کے فیصلے کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے‘ سانحہ اے پی ایس کے بعد سیاسی قیادت نے مل بیٹھ کر نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی ڈی اے علی نواز اعوان کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی ڈی اے علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ وائٹ کالر کرائم کے خاتمے کے لئے نیب قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے‘ پاکستان کے کرتار پور راہداری کو کھولنے کے فیصلے کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے‘ سانحہ اے پی ایس کے بعد سیاسی قیادت نے مل بیٹھ کر نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا جس سے ملک میں دہشتگردی کی لعنت کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی‘ بھارت میں شہریت کے ترمیمی بل سے دنیا میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر ہندوستان کا چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ پیر کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفگتو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بغیر کسی ثبوت کے کسی کو بھی 90 دنوں کے لئے تفتیش کے لئے رکھنا درست نہیں ہے۔ ایسے بہت سے قوانین میں ترمیم کے لئے سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر اس حوالے سے قانون سازی کرنا ہوگی۔ اس قانون پر ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ایسے قوانین میں ترمیم کرنے کے لئے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ملک سے وائٹ کالر کرائم کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کرتارپور راہداری کھول کر اپنے ہمسایہ ملک کی سکھ کمیونٹی کے لئے سہولت فراہم کی ہے کہ وہ اپنے مقدس مقام پر حاضری دے سکیں۔ پاکستان کے اس فیصلے کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے شہداءکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اس سانحہ کے نتیجے میں ملک کی تمام سیاسی قیادت نے مل بیٹھ کر ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پر وگرام بنایا جس کے 70 فیصد قوانین پر عملدرآمد سے ملک سے دہشتگردی جیسی لعنت کو 90 فیصد ختم کردیا گیا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ بھارت اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک قرار دیتا ہے لیکن شہریت کے حوالے سے ترمیمی بل سے ہندوستان کی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کی وجہ سے بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ وزیراعظم کے دورہ بحرین سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی اور پاکستان کے ہنرمند افراد کے لئے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔








