اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں کورونا وائرس سے بچائوکی ویکسین کا چنائو کرنا ہے اس کا فیصلہ ویکسین کی افادیت دیکھ کر لیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ہم کسی ایک یا دوسری ویکسین …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا انٹرویو
اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں کورونا وائرس سے بچائوکی ویکسین کا چنائو کرنا ہے اس کا فیصلہ ویکسین کی افادیت دیکھ کر لیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ہم کسی ایک یا دوسری ویکسین کو فوقیت دے رہے ہیں بلکہ ہم سائنس کو فوقیت دیں گے اور جو بہترین ویکسین ہمیں میسر ہو گی جس کے سائنسی اعتبار سے بھی فائدے ہوں گے اوروہی استعمال کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 20 کروڑ سے زیادہ آبادی کا ملک ہے جس کی وجہ سے ہماری ضرورت کافی زیادہ ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایک بار سے زیادہ کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چین کی تیار کردہ ویکسین کو دیکھا جا رہا ہے، ویکسین چاہے امریکہ سے آئے، چین، روس یا برطانیہ سے، فیصلہ اس وقت تک کرنا ممکن نہیں جب تک ویکسین کی افادیت کا پتہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جلد یہ بتانے کے قابل ہو گا کہ وہ کہاں سے اور کس سے کتنی ویکسین لے گا۔









