وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کی وفاقی وزرا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے تیل و گیس کی تلاش کیلئے اپنے دور میں ایک بھی لائسنس جاری نہیں کیا، ہمارے دور میں 26 نئے وسائل سے تیل و گیس دریافت ہوئے، ستمبر میں 20 مزید بلاکس نیلامی کیلئے پیش کئے جائیں گے، ایل این جی سابقہ معاہدوں سے سستی منگوائی جا …

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے تیل و گیس کی تلاش کیلئے اپنے دور میں ایک بھی لائسنس جاری نہیں کیا، ہمارے دور میں 26 نئے وسائل سے تیل و گیس دریافت ہوئے، ستمبر میں 20 مزید بلاکس نیلامی کیلئے پیش کئے جائیں گے، ایل این جی سابقہ معاہدوں سے سستی منگوائی جا رہی ہے، پانچ نئے پرائیویٹ ٹرمینلز قائم کرنے کی اجازت دےدی گئی ہے، کراچی سے لاہور تک نئی پائپ لائن پر تین سے چار ماہ میں کام شروع ہو جائے گا، یکم ستمبر کے بعد تمام پٹرول یوروV اور 31 دسمبر کے بعد تمام ڈیزل یورو V سٹینڈرڈ کا درآمد ہو گا، آئل ریفائنریوں کو بھی اپ گریڈ کریں گے، کراچی سے شیخوپورہ تک وائٹ آئل پائپ لائن کا دائرہ پشاور تک بڑھایا جائے گا، بجلی کی ڈسٹری بیوشن کو بہتر بنانے کیلئے سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی، ملک بھر میں گیس کے 25 لاکھ کنکشن التواءکا شکار ہیں، جب تک گیس کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوتا کنکشن کا مسئلہ رہے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بجلی شہزاد قاسم کے ہمراہ حکومت کی 2 سالہ کارکردگی کے سلسلہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گیس کی پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے اور اس وقت ہم 3.7 ارب مکعب فٹ پیدا کر رہے ہیں جس میں سالانہ ساڑھے9 فیصد کی شرح سے کم ہو رہی ہے، پچھلی حکومت کے دور میں تیل و گیس کی تلاش کیلئے ایک بھی لائسنس نہیں دیا گیا اور لائسنس جاری ہونے کے بعد تین سے پانچ سال تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت تک لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے دو سال میں ڈرلنگ میں اضافہ کیا ہے، 26 نئے ذخائر سے 240 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور سات ہزار بیرل یومیہ تیل حاصل ہو رہا ہے، 10 نئے بلاکس کا ٹینڈر دےدیا ہے، 20 مزید بلاکس ستمبر میں نیلام کریں گے، یہ ہم نے مارچ میں نیلامی کیلئے پیش کرنے تھے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے نیلام نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ تیل و گیس کی پیداوار کا مکمل ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے ڈیٹا بیس اور ڈیش بورڈ بنا دیا ہے، پہلے ایل این جی صرف حکومت درآمد کرتی تھی، پرانے معاہدوں کی قیمت بھی زیادہ تھی، پچھلے ڈیڑھ سال سے ہم 20 سے 25 فیصد ایل این جی کم قیمت پر خرید رہے ہیں اور اگست کے پہلے ہفتہ میں 2.2 ڈالر کی قیمت پر کارگو یہاں پر لایا گیا ہے جو کہ اس خطہ میں سب سے کم قیمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ نئے پرائیویٹ ٹرمینلز کے قیام کی اجازت دےدی گئی ہے، پرائیویٹ کمپنیاں خود ایل این جی منگوا سکتی ہیں، اس کیلئے انہیں حکومتی ضمانت کی بھی ضرورت نہیں ہو گی، ایگزون اور مٹسوبشی دسمبر سے خود اس پر کام شروع کر دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پائپ لائنوں پر بھی کام سست روی کا شکار تھا، ہم نے اس پر پیشرفت کی ہے، تاپی کے حوالہ سے تمام معاہدے ہو گئے ہیں اور ہم قیمت میں بھی کمی کرائیں گے، یہ مرحلہ دو تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا اور ترکمانستان آئندہ سال جنوری، فروری میں کام شروع کرنے کا خواہاں ہے، کراچی سے لاہور تک نئی پائپ لائن بچھانے کیلئے روٹس، سروے اور ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے، تین سے چار ماہ میں اس پر کام شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یورو V پٹرول ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے اہم ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر تیل کا معیار تبدیل کیا گیا ہے، یکم ستمبر کے بعد تمام پٹرول یورو V اور 31 دسمبر کے بعد تمام ڈیزل یورو V سٹینڈرڈ پر درآمد ہو گا۔ ندیم بابر نے کہا کہ تمام ریفائنریاں اپ گریڈ کی جا رہی ہیں، پارکو کوسٹل ریفائنری پر ڈیڑھ سال میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، ڈیزائن، لائسنسنگ اور انجینئرنگ کا کام مکمل کیا گیا ہے، یہ ملک کا سب سے بڑا تقریباً 7 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے، آئندہ موسم گرما تک اس پر کام شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے شیخوپورہ تک وائٹ آئل پائپ لائن کو بھی دو رویہ کیا جا رہا ہے، آنے والے ہفتوں میں اس پر ڈیزل اور پٹرول دونوں کی ترسیل ہو گی، اس کا دائرہ شیخوپورہ سے تارو جبہ پشاور تک بڑھایا جائے گا، اس پر بھی ایک سے ڈیڑھ ماہ میں کام شروع ہو جائے گا جس سے کراچی سے پشاور تک تیل اور ڈیزل کی سپلائی پائپ لائن کے ذریعے ہو گی اس سے سڑکوں پر ٹریفک کے دباﺅ میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں گیس کے 25 لاکھ کنکشن التواءکا شکار ہیں، جب تک گیس کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوتا کنکشن کا مسئلہ رہے گا۔

مزید خبریں