وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت موبائل اور الیکٹرانکس ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):موبائل اور الیکٹرانکس ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیرِ اعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا ،جس میں پالیسی کے مقاصد اور عملدرآمدی فریم ورک پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو ہم آہنگ کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم، چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) …

اسلام آباد۔5جنوری (اے پی پی):موبائل اور الیکٹرانکس ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیرِ اعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا ،جس میں پالیسی کے مقاصد اور عملدرآمدی فریم ورک پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو ہم آہنگ کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم، چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) حماد منصور اور موبائل فون مینوفیکچررز کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ پالیسی پر تفصیلی پریذنٹیشن دی گئی جس میں مقامی اسمبلنگ اور مکمل درآمدات کے تقابلی فوائد کا جائزہ بھی شامل تھا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرحلہ وار لوکلائزیشن کے ذریعے ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جس سے پائیدار صنعتی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔پالیسی کے تحت مدربورڈز، پی سی بیز، الیکٹرانک پرزہ جات اور ڈسپلے کمپوننٹس سمیت اہم اجزاء کی مقامی تیاری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا وژن پاکستان کو عالمی برانڈز کے لئے ایک مضبوط برآمدی مرکز میں تبدیل کرنا ہے تاکہ ملک کو عالمی ویلیو چینز میں مؤثر طور پر شامل کیا جا سکے۔موبائل مینوفیکچررز کے نمائندگان نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ سام سنگ، شیاؤمی، اوپو، ویوو، نوکیا اور دیگر معروف عالمی برانڈز نئی پالیسی کے تحت پاکستان میں سرمایہ کاری کے ممکنہ امیدوار ہیں۔ اجلاس میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ موبائل سیکٹر کی ترقی دیگر الیکٹرانکس صنعتوں تک مثبت اثرات مرتب کرے گی اور مجموعی صنعتی ترقی کو فروغ دے گی۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ نئی پالیسی کے تحت برآمدات پر مبنی اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ایک مسابقتی صنعتی فریم ورک متعارف کرایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ لوکلائزیشن اہداف، رپورٹنگ تقاضوں یا آپریشنل ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے گا، مراعات واپس لی جائیں گی اور جرمانے عائد کئے جائیں گے۔ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق عدم تعمیل کی صورت میں درآمدی لائسنس کی معطلی اور مالی جرمانے بھی لاگو ہوں گے۔

موبائل مینوفیکچررز نے برآمدات کے لئے کوالٹی سرٹیفکیشن کی اہمیت پر زور دیا اور بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کے لئے حکومتی سطح پر مقامی ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن لیبارٹریوں کے قیام کی سفارش کی۔ہارون اختر خان نے ہدایت کی کہ موبائل اور الیکٹرانکس ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی کی کامیاب عملدرآمد اور برآمدات پر مبنی ترقی و صنعتی تبدیلی کے اہداف کے حصول کے لئے سرکاری اور نجی شعبہ باہمی تعاون سے کام کرے۔