اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):ویمن انٹرپرینیورشپ کانفرنس (ڈبلیو ای سی اواین) مساوات 2025 پاک چائنا سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس کا اہتمام برٹش کونسل اور چینج مکینکس کے اشتراک سے کیا گیا۔ کانفرنس میں معزز مہمانوں، شراکت داروں، خواتین کی معاشی شمولیت کے حامیوں اور پاکستان بھر سے آئی ہوئی خواتین انٹرپرینیورز اور ابھرتی ہوئی لیڈی لیڈرز نے شرکت کی۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے …
وزیراعظم یوتھ پروگرام کے قرض سکیم میں خواتین کے لیے 25 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا، رانا مشہود احمد خاں

مزید خبریں
اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):ویمن انٹرپرینیورشپ کانفرنس (ڈبلیو ای سی اواین) مساوات 2025 پاک چائنا سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس کا اہتمام برٹش کونسل اور چینج مکینکس کے اشتراک سے کیا گیا۔ کانفرنس میں معزز مہمانوں، شراکت داروں، خواتین کی معاشی شمولیت کے حامیوں اور پاکستان بھر سے آئی ہوئی خواتین انٹرپرینیورز اور ابھرتی ہوئی لیڈی لیڈرز نے شرکت کی۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے بطور مہمان خصوصی منتظمین، شراکت داروں، معزز شرکا اور تمام خواتین انٹرپرینیورز کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نےڈبلیو ای سی اواین کے اس فیصلہ کو سراہا کہ 2025 کے لیے مساوات کو مرکزی موضوع منتخب کیا گیا جو محض ایک پالیسی اصطلاح نہیں بلکہ اسلامی اقدار کا حصہ، انصاف کا بنیادی اصول اور قومی ترقی کے لیے ناگزیر بنیاد ہے۔
چیئرمین یوتھ پروگرام نے وزیراعظم کے وژن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام پاکستان کی 70 فیصد سے زیادہ نوجوان آبادی جو 30 سال سے کم عمر ہے، کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ پروگرام اپنے جامع فور ایز فریم ورک: ایجوکیشن، ایمپلائمنٹ، انگیجمنٹ اور انوائرنمنٹ کے تحت کام کر رہا ہے جس کے ذریعے سکالر شپس، لیپ ٹاپس، کاروباری قرضے، انٹرنشپس، انوویشن ایوارڈز اور لیڈرشپ پلیٹ فارمز جیسے مواقع نوجوانوں کو مساوی بنیادوں پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر چیئرمین یوتھ پروگرام نے پنجاب میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا ذکر کیا جہاں ’’بھوٹی مافیا‘‘ کے خاتمے اور شفاف میرٹ سسٹم کے نفاذ کے بعد پوشیدہ صلاحیتیں سامنے آئیں۔
انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے اس طالب علم کی مثال پیش کی جو حافظ آباد سے تعلق رکھتا ہے اور تندور پر روٹیاں لگانے کے باوجود 120 سالہ تعلیمی ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہوا۔ اسی طرح یزمان کی ایک طالبہ کی کامیابی کا حوالہ بھی دیا گیا جو نہایت محدود وسائل کے باوجود تعلیم میں غیر معمولی طور پر آگے بڑھی۔ یہ مثالیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ میرٹ اور موقع ملنے پر نوجوان ہر قسم کی معاشی رکاوٹوں کو عبور کر سکتے ہیں۔چیئرمین نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی مثبت رہنمائی کرے، انہیں مواقع فراہم کرے اور ہر شعبے میں ترقی کے لیے ضروری وسائل تک رسائی یقینی بنائے، خواہ وہ تعلیم، ٹیکنیکل ٹریننگ، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، آرٹس و کلچر، کھیلوں یا ماحول و موسمیاتی تغیرات سے متعلق شعبے ہوں۔
اس پورے عمل کا مرکز میرٹ ہے اور ادارے اسی اصول کو مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔انہوں نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت کا ذکر کیا، خصوصاً پنجاب میں خواتین کے حق ملکیت کے تحفظ اور برسوں سے نظرانداز کیے گئے اس معاملے پر حکومتی توجہ کو سراہا۔ ساتھ ہی سرکاری ملازمتوں میں 33 فیصد خواتین کوٹہ کی نفاذ کو خواتین کی عملی شمولیت کے لیے مضبوط قدم قرار دیا۔وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون سکیم کے جائزے کے دوران اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ خواتین کے لیے مختص 25 فیصد کوٹہ اور بلاسود یا آسان قرضوں کی فراہمی کے باوجود گزشتہ سال محض 11 فیصد خواتین نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں یہ شرح 3 فیصد سے بھی کم رہی۔ اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے تمام بینکوں، مالیاتی اور مائیکرو فنانس اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ خواتین تک رسائی کو بڑھائیں اور انہیں مساوی مالی مواقع فراہم کریں۔چیئرمین یوتھ پروگرام نے تمام معزز شرکا، شراکت داروں اور تعاون کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت نوجوانوں اور خواتین کے لیے ایک ایسا ماحول قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو میرٹ، شمولیت اور مواقع کی فراہمی کی بنیاد پر استوار ہو۔








