کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان کی زیر صدارت کپاس کی پیداوار اور کاٹن ایریا کی مجموعی صورتحال کے جائزے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملتان ڈویژن میں کپاس کے زیر کاشت رقبے، متوقع پیداوار اور گزشتہ سال کے مقابلے میں کاٹن ایریا میں کمی کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کپاس کی پیداوار کے درست تخمینے کیلئے سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور فیکٹریوں کے ڈیٹا کی روزانہ نگرانی کا فیصلہ

مزید خبریں
ملتان ۔ 09 ستمبر (اے پی پی):کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان کی زیر صدارت کپاس کی پیداوار اور کاٹن ایریا کی مجموعی صورتحال کے جائزے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملتان ڈویژن میں کپاس کے زیر کاشت رقبے، متوقع پیداوار اور گزشتہ سال کے مقابلے میں کاٹن ایریا میں کمی کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران کپاس کی متوقع پیداوار کے درست تخمینے کے لیے ڈیٹا کے موثر استعمال اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ پر خصوصی زور دیا گیا۔ کمشنر نے کاٹن فیکٹریوں کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا میں موجود فرق دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فیکٹریوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار اور متعلقہ سسٹم میں موجود ریکارڈ کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے غیر رپورٹنگ کرنے والی فیکٹریوں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کرنے کی بھی ہدایت کی۔
کمشنر نے کہا کہ کپاس کی پیداوار کے درست تخمینے کے لیے مستند اور بروقت اعداد و شمار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کاٹن فیکٹریوں کی مانیٹرنگ کے لیے موثر اور عملی میکنزم وضع کیا جائے اور کاٹن سیزن کے دوران فیکٹریوں کے ڈیٹا کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے فیکٹریوں میں روزانہ کی بنیاد پر جننگ اور بیلز کی پیداوار کی فزیکل مانیٹرنگ کی تجویز کا بھی جائزہ لیا۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ کسانوں کو کپاس کا بہتر ریٹ اور بروقت معلومات کی فراہمی سے کاٹن ایریا میں اضافہ ممکن ہے۔ کپاس کی فصل کے بہتر نرخ اور کسانوں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مسلسل اقدامات کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
کمشنر عامر کریم خاں نے واضح کیا کہ غیر قانونی یا غلط رپورٹنگ کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیکٹریوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ کپاس کی پیداوار کے حقیقی اعداد و شمار سامنے لائے جاسکیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹر زراعت اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اور کپاس کی پیداوار میں اضافے، کسانوں کے اعتماد کی بحالی اور مانیٹرنگ نظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔







