پشاور۔ 21 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت واپڈا کے تحت جاری ہائیڈرو پاور اور آبی وسائل کے میگا منصوبوں سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور تر جمان کے مطابق اجلاس میں چشمہ رائٹ بنک کنال لفٹ کم گریویٹی (سی آر بی سی لفٹ کنال)، مہمند ڈیم، نیو منڈا ہیڈورکس اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر جاری پیشرفت، درپیش مسائل …
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت واپڈا کے تحت جاری ہائیڈرو پاور اور آبی وسائل کے میگا منصوبوں پر اہم اجلاس

مزید خبریں
پشاور۔ 21 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت واپڈا کے تحت جاری ہائیڈرو پاور اور آبی وسائل کے میگا منصوبوں سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور تر جمان کے مطابق اجلاس میں چشمہ رائٹ بنک کنال لفٹ کم گریویٹی (سی آر بی سی لفٹ کنال)، مہمند ڈیم، نیو منڈا ہیڈورکس اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر جاری پیشرفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان، مشیر خزانہ مزمل اسلم، رکن قومی اسمبلی ساجد مہمند، وفاقی سیکرٹری آبی وسائل، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید سمیت وفاقی و صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کو سی آر بی سی لفٹ کنال منصوبے پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو منصوبے کے لیے درکار اراضی کی خریداری کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے اور منصوبے پر کام کرنے والے عملے کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی آر بی سی لفٹ کنال خیبرپختونخوا کے زرعی مستقبل اور غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، جس پر عملدرآمد میں مزید کسی تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی عدم توجہی کے باعث یہ اہم منصوبہ غیر ضروری تاخیر کا شکار رہا، جس کے نتیجے میں اس کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے صوبے کی دو لاکھ پچانوے ہزار ایکڑ سے زائد بنجر اراضی زیر کاشت آئے گی، جس سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ، غذائی تحفظ مضبوط اور دیہی معیشت مستحکم ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے حصے کے تمام مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی، تاہم وفاقی حکومت بھی اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اپنے حصے کے فنڈز بروقت جاری کرے تاکہ منصوبے میں مزید تاخیر نہ ہو۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سی آر بی سی لفٹ کنال منصوبے پر چھ مختلف پیکجز کے تحت بیک وقت کام جاری ہے، جبکہ اس کی مرحلہ وار تکمیل 2027 سے 2030 کے دوران متوقع ہے۔ مزید بتایا گیا کہ منصوبے کی مجموعی لاگت کا 65 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 35 فیصد خیبرپختونخوا حکومت برداشت کرے گی۔اجلاس میں مہمند ڈیم منصوبے پر پیشرفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق منصوبے پر مجموعی طور پر 54 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اس کی تکمیل ستمبر 2028 میں متوقع ہے۔
منصوبہ مکمل ہونے سے 17 ہزار 742 ایکڑ اراضی زیر کاشت آئے گی، 800 میگاواٹ پن بجلی پیدا ہوگی، جبکہ پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن صاف پینے کا پانی بھی فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مہمند ڈیم رائٹ بینک ایریگیشن کنال کے لیے درکار 81 ایکڑ اراضی کے حصول میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مہمند ڈیم منصوبے کے تحت مقامی آبادی کے لیے اعلان کردہ ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز آئندہ ایک ماہ کے اندر جاری کرنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں کے عوام کو ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات بروقت ملنے چاہئیں۔ اجلاس میں نیو منڈا ہیڈورکس اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے داسو ہائیڈرو پاور منصوبے پر پیشرفت میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، جو ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ قوم کا قیمتی سرمایہ ہے اور اس کی بروقت و کامیاب تکمیل کے لیے خیبرپختونخوا حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے کو مزید موثر بنایا جائے اور تمام منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کی جائے تاکہ یہ قومی اہمیت کے حامل منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوں اور ان کے زرعی، آبی، توانائی اور معاشی ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔







