وزیراعلیٰ کو سب سے پہلے صوبے میں رہ کر امن و امان، عوامی مسائل اور انتظامی معاملات پر توجہ دینی چاہیے، شہریوں کا مطالبہ
وزیراعلیٰ کو سب سے پہلے صوبے میں رہ کر امن و امان، عوامی مسائل اور انتظامی معاملات پر توجہ دینی چاہیے، شہریوں کا مطالبہ

مزید خبریں
پشاور۔ 03 ستمبر (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سندھ کے سیاسی دورے پر تنقید کرتے ہوئے شہریوں نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کو سب سے پہلے صوبے میں رہ کر امن و امان، عوامی مسائل اور انتظامی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ شہریوں نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ بانی کی رہائی کے لیے سیاسی جماعت کو اپنی سطح پر مؤثر اور منظم جدوجہد کرنی چاہیے، کیونکہ پارٹی میں کارکنوں، صوبائی و علاقائی صدور اور دیگر ذمہ داران کی بڑی تعداد موجود ہے، جو سیاسی تحریک کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔شہریوں کاکہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام پہلے ہی انتخابات میں اپنا ووٹ دے چکے ہیں، اس لیے بار بار اسٹریٹ موومنٹ اور سیاسی دوروں کے بجائے صوبائی حکومت کو عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کے مطابق وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو اس نوعیت کی سیاسی سرگرمیوں میں مسلسل مصروف رہنا زیب نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال تشویشناک ہے، پولیس اہلکار مسلسل جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں جبکہ جنوبی اضلاع سمیت مختلف علاقوں میں بدامنی کے مسائل موجود ہیں۔ ایسے حالات میں وزیراعلیٰ کا صوبے سے باہر رہنا سوالات کو جنم دیتا ہے۔شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیراعلیٰ کی غیرموجودگی کے دوران صوبے میں کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ان کے مطابق حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے صوبے میں امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کو سیاسی نعروں اور سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر صوبے کے حقیقی مسائل کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ان کے بقول خیبرپختونخوا کے عوام بدامنی، مہنگائی اور دیگر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور حکومت سے عملی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔عوام نے 27 ستمبر کے مجوزہ سیاسی مارچ کے حوالے سے بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں پر خرچ ہونے والے وسائل کو اگر صوبے کے عوام کی فلاح، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے تو اس سے عوام کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ کے سندھ دورے کے اخراجات کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ چار روزہ سیاسی دورے پر ہونے والے اخراجات کے بارے میں واضح ہونا چاہیے کہ یہ رقم کس ذریعے سے ادا کی جا رہی ہے اور کیا اس میں سرکاری وسائل استعمال ہو رہے ہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور مرکزی قیادت کے 3 سے 7 ستمبر تک سندھ کے دورے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے دوران مختلف شہروں میں اسٹریٹ موومنٹ اور عوامی اجتماعات شیڈول ہیں جبکہ 6 ستمبر کو کراچی میں جلسہ بھی متوقع ہے۔








