وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر ملک کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت ہے جس کےلئے بین الصوبائی تنازعات کو حل کرنے کے ضرورت ہے، چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بنیادی ضروری اور تکنیکی رکاوٹیں دور کرنے میں کردار ادا کریں جو ڈیم کی تعمیر کے دوسرے …

اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر ملک کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت ہے جس کےلئے بین الصوبائی تنازعات کو حل کرنے کے ضرورت ہے، چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بنیادی ضروری اور تکنیکی رکاوٹیں دور کرنے میں کردار ادا کریں جو ڈیم کی تعمیر کے دوسرے مرحلے میں رکاوٹ ہیں، گلگت بلتستان میں اس وقت 149 ارب روپے کی لاگت پر مبنی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد پہلی مرتبہ 2006ءمیں جنرل (ر) پرویز مشرف نے رکھا، اس کے بعد 2010ءمیں (ای سی سی) سے منظوری کے بعد اس دور کی حکومت نے متاثرین ڈیم کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت دو سے تین سال میں لینڈ ریکوزیشن سمیت تمام تنازعات کا حل طے پانا لازمی قرار دیا گیا لیکن اس دور میں وفاقی حکومت فنڈ فراہم نہ کر سکی جس کی وجہ سے لینڈ ریکوزیشن کا مرحلہ التواءمیں چلا گیا لیکن جب 2014ءمیں اس وقت ملک کے وزیراعظم نواز شریف تھے تو انہوں نے اس ڈیم کی تعمیر کو سنجیدہ لیتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ دیامر بھاشا ڈیم کے پہلے مرحلہ کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، صوبائی حکومت نے 6 مہینے کے قلیل عرصہ میں 90 فیصد لینڈ ریکوزیشن مکمل کی اورزمینوں کے مقامی مالکان کو 52 ارب روپے کی ادائیگی بھی کر دی، خوش کن امر یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ سپارکو کی مدد اور سیٹلائٹ کے ذریعے ڈیم کی زمین لینڈ ریکوزیشن مکمل ہوئی جس کی تفصیلات ویب سائٹ پر ڈال دی گئیں جسے ہر شخص کہیں بھی بیٹھ کر دیکھ سکتا ہے، صوبائی حکومت نے سپارکو کے تعاون سے لینڈ ریکوزیشن کی مد میں 8 ارب روپے کی قومی خزانے کو بچت بھی کروائی جو کہ ایک تاریخی کارنامہ ہے

مزید خبریں