وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کامادہ اونٹنی پر وحشیانہ تشدد کا سخت نوٹس،جانور کو دستیاب بہترین ویٹرنری علاج فراہم کرنے کی ہدایت

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ضلع تھرپارکر کے تعلقہ چھاچھرو میں مادہ اونٹنی پر وحشیانہ تشدد کا سخت نوٹس لیتے ہوئے لائیو اسٹاک اینڈ فشرئز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ جانور کو دستیاب بہترین ویٹرنری علاج فراہم کرے اور اس کی مکمل صحت یابی تک چوبیس گھنٹے نگرانی کو یقینی بنائے۔

کراچی۔ 10 جون (اے پی پی):وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ضلع تھرپارکر کے تعلقہ چھاچھرو میں مادہ اونٹنی پر وحشیانہ تشدد کا سخت نوٹس لیتے ہوئے لائیو اسٹاک اینڈ فشرئز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ جانور کو دستیاب بہترین ویٹرنری علاج فراہم کرے اور اس کی مکمل صحت یابی تک چوبیس گھنٹے نگرانی کو یقینی بنائے۔بدھ کو جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعلی سندھ کو سیکرٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشرئز کاظم جتوئی کی جانب سے پیش کی گئی واقعہ کی رپورٹ کے ذریعے 13 سالہ اونٹنی کی حالت کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جو شدید جسمانی زخموں کا شکار ہوئی تھی اور اس کی دائیں آنکھ کا ڈھیلا مکمل طور پر پھٹ گیا تھا۔

وزیراعلی کو محکمہ لائیو اسٹاک نے مطلع کیا کہ طبی علاج کے بعد اونٹنی کی حالت مستحکم ہو گئی ہے اور جانور اب کسی نمایاں دشواری کے بغیر کھڑا ہونے، چلنے، کھانے اور پینے کے قابل ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جانوروں کے خلاف ظلم ایک قابلِ مذمت فعل ہے اور اسے ایک مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔اس قسم کی بربریت کے ذمہ داروں کی نشاندہی ہونی چاہیے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

ڈپٹی کمشنر تھرپارکر حلیم جاگیرانی نے اپنی رپورٹ میں وزیراعلی کو مطلع کیا کہ انہوں نے اونٹنی کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے ذاتی طور پر گائوں کا دورہ کیا ہے۔ ایس ایس پی تھرپارکر عارف عزیز نے کہا کہ پولیس نے کھینسر پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کر کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف اینیمل ہسبینڈری، سندھ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق، ایک ویٹرنری ٹیم نے 9 جون کو تعلقہ چھاچھرو کی یونین کونسل چارنہور کے متاثرہ گائوں کا دورہ کیا اور زخمی اونٹنی کا تفصیلی کلینیکل (طبی) معائنہ کیا۔ معائنے سے معلوم ہوا کہ اونٹنی کی دائیں آنکھ کا ڈھیلا مکمل طور پر پھٹ چکا تھااور بائیں آنکھ تنا ئوکی وجہ سے ہونے والی سوزش کے باعث شدید سوجی ہوئی پائی گئی جبکہ جسم کے مختلف حصوں پر متعدد زخم اور نیل کے نشانات دیکھے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مبینہ طور پر لکڑی کے ڈنڈوں یا دیگر اشیا سے جسمانی تشدد کیا گیا تھا۔ مالک کے بیان کے مطابق اونٹنی کو مبینہ طور پر 25 مئی کو ایک پڑوسی شخص نے پکڑ کر اپنی رہائش گاہ پر قید کر لیا تھا جہاں اسے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

مراد علی شاہ نے لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ تمام ضروری طبی دیکھ بھال کی فراہمی جاری رکھے اور جانور کی حالت کے بارے میں باقاعدگی سے اپڈیٹس جمع کرائے۔ سیکرٹری لائیو اسٹاک کاظم جتوئی نے وزیراعلی کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مسلسل نگرانی کے لیے ویٹرنری سرجنز، ویٹرنری افسران اور لائیو اسٹاک کے عملے پر مشتمل ایک خصوصی ویٹرنری ٹیم تعینات کی گئی ہے جبکہ اونٹنی کی صحت یابی کا اندازہ لگانے کے لیے روزانہ فالو اپ معائنے کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلی نے لائیو اسٹاک اینڈ فشرئز ڈیپارٹمنٹ کے فوری ردعمل کو سراہا اور سیکرٹری کاظم جتوئی کو ہدایت کی کہ وہ جانور کے علاج اور بحالی کے لیے درکار تمام وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔