عالمی غیر سرکاری تنظیم ”باکو انیشی ایٹو گروپ“ نے سکھ فریڈم انٹرنیشنل کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم جاری کر دی ہے جس میں جون 1984ء کے واقعات، شری دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) پر بھارتی فوجی کارروائی اور بعد ازاں ہونے والے سکھ مخالف فسادات کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔دستاویزی فلم کے مطابق جون 1984ء میں بھارتی فوج نے شری دربار صاحب سمیت پنجاب بھر
عالمی غیر سرکاری تنظیم ”باکو انیشی ایٹو گروپ“ نے سکھ فریڈم انٹرنیشنل کے حوالے سے دستاویزی فلم جاری کر دی
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):عالمی غیر سرکاری تنظیم ”باکو انیشی ایٹو گروپ“ نے سکھ فریڈم انٹرنیشنل کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم جاری کر دی ہے جس میں جون 1984ء کے واقعات، شری دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) پر بھارتی فوجی کارروائی اور بعد ازاں ہونے والے سکھ مخالف فسادات کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔دستاویزی فلم کے مطابق جون 1984ء میں بھارتی فوج نے شری دربار صاحب سمیت پنجاب بھر کے 75 سے زائد گوردواروں میں کارروائیاں کیں۔ بھارتی حکومت نے اس فوجی آپریشن کو ”آپریشن بلیو اسٹار“ کا نام دیا جبکہ سکھ برادری ان واقعات کو ”بیٹل آف امرتسر“ یا ”تیجا غلوخارا“ کے نام سے یاد کرتی ہے۔فلم میں شری دربار صاحب کو سکھوں کی مذہبی، سماجی اور اجتماعی زندگی کا مرکزی مقام قرار دیا گیا ہے جہاں سکھ برادری کے مذہبی اجتماعات، قیادت اور سماجی فلاح کے تصور ”سربت دا بھلا“ کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
دستاویزی فلم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جون 1984ء کے واقعات کے چند ماہ بعد نومبر 1984ء میں بھارت میں سکھ مخالف فسادات رونما ہوئے جن میں ہزاروں سکھوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کے گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں پر حملے کئے گئے۔فلم کے مطابق ان واقعات نے دنیا بھر میں سکھ برادری کے اندر خودمختاری، انصاف اور آزادی سے متعلق مطالبات کو مزید تقویت دی۔باکو انیشی ایٹو گروپ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی سطح پر سکھ برادری کی آواز اجاگر کرنے اور انسانی حقوق سے متعلق مسائل کو بین الاقوامی فورمز پر پیش کرنے کے لئے موثر کردار ادا کر رہا ہے۔









