لاہور۔23جنوری (اے پی پی):وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے تین روزہ بسنت فیسٹیول کی منظوری دے دی ہے۔وزیراعلی کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں بسنت فیسٹیول سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔وزیراعلی نے بسنت فیسٹیول سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹانے آئی ہوں۔ پنجاب کے عوام سے خوشی کا ماحول چھین کر لڑائی جھگڑوں اور فتنہ فساد کے …
وزیراعلی مریم نوازکی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس، تین روزہ بسنت فیسٹیول کی منظوری دے دی گئی

مزید خبریں
لاہور۔23جنوری (اے پی پی):وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے تین روزہ بسنت فیسٹیول کی منظوری دے دی ہے۔وزیراعلی کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں بسنت فیسٹیول سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔وزیراعلی نے بسنت فیسٹیول سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹانے آئی ہوں۔ پنجاب کے عوام سے خوشی کا ماحول چھین کر لڑائی جھگڑوں اور فتنہ فساد کے سپرد کر دیا گیا۔
پنجاب دل والوں کا صوبہ ہے لیکن عوام کو تفریح سے دور کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ30 سال بعد پنجاب میں ہارس اینڈ کیٹل شو شروع کیا، اس سا ل بھی منائیں گے۔ پنجاب میں آزادی کے ساتھ سب کو خوشی منانے کا حق حاصل ہے، یہ سب کا صوبہ ہے۔ عید، ہولی، کرسمس اور رمضان جس مذہب سے بھی اس کا تعلق ہوں اس کو خوشی منانے کا پورا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسم بہار کی آمد کی اطلاع دینے والا بسنت کاخوبصورت تہوار 800سال قبل شروع ہوا۔ بسنت پنجاب کی ثقافت اور ورثہ ہے، دنیا پنجاب کے کلچر کو بہت اہمیت دیتی ہے۔
پنجاب کے عوام کو بسنت کی خوشخبری دینا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 6 ، 7اور 8 فروری کو پہلی مرتبہ گورنمنٹ سپانسرڈ اور آرگنائزڈ بسنت منانے جارہے ہیں۔ بسنت جیسے تہوار کاحادثات سے منسلک ہونا افسوسناک ہے۔ شہریوں کی حفاظت کیلئے جامع سیفٹی پلان بنایا گیا۔لاہور کو ریڈ، ییلو اور گرین زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔لاہور میں 10 لاکھ موٹر سائیکلوں پر مفت سیفٹی راڈ لگارہے ہیں۔ بسنت کے تہوار کیلئے2150 مینوفیکچر، ٹریڈرز، دکانداروں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسنت سے پہلے پتنگ بازی کرنے پر 600زائد مقدمات درج اور 641 گرفتار ہوچکے ہیں۔ غیر قانونی طور پر بنائی اور فروخت ہونے والی27ہزار سے زائد پتنگیں بھی برآمد کر لی گئیں ہیں۔
بسنت منانے کیلئے 10ہزار سے زائد ضمانتی بانڈ لیے گئے ہیں۔ہرصورت میں عوام کا تحفظ یقینی بنانے چاہتے ہیں۔ بسنت سیفٹی پلان عوام کو سزا دینے کیلئے نہیں بلکہ تحفظ کیلئے ہے۔ بسنت کے دوران ڈور کی چرخی منع ہے، صرف پنا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پتنگ بازی کے لئے کاٹن کے نو دھاگوں پر مشتمل ڈور ہی استعمال کی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ نائیلون اوردھاتی تار کی ڈور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مقررہ ساز سے بڑا پتنگ اور گڈا بھی اڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ممنوعہ ڈور استعمال کرنے پر پانچ سال قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔6 ۔ 7اور 8فروری کے علاوہ بسنت بازی پر جرمانہ اور قید کی سزا دی جائے گی۔ غیر قانونی طور پر پتنگ بازی کرنے والے والدین اور سرپرست ذمہ دار ہوں گے۔
وزیراعلی نے کہا کہ ریڈ زون میں سیفٹی راڈ کے ساتھ ہی بائیک کو آنے کی اجازت ہوگی۔ راڈ کے بغیر بائیک چلانے پر 2ہزار جرمانہ ہوگا، ہمارا مفاد نہیں صرف عوام کی حفاظت کیلئے کررہے ہیں۔ ممنوعہ پتنگ بازی کے بارے میں اطلاع دینے پر انعام دیا جائے گا۔ بسنت پرپتنگ بازی کیلئے 35 انچ پتنگ اور 40انچ کا گڈا استعمال کیا جاسکے گا۔انہوں نے بتایا کہ بسنت کے موقع پر ٹریفک کیلئے خصوصی پلان بھی تیار کیا گیا ہے، 100 ٹریفک پولیس کیمپ لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بسنت پر ستھرا پنجاب کے ورکروں کے علاوہ چار ہزار پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی کریں گے۔ جہاں ڈور پھرنے کے واقعات پیش آئے ان علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔
بسنت ٹرانسپورٹ پلان کے تحت فری رائیڈ کی سہولت دیں گے۔ 500بسیں چلارہے ہیں، اورنج لائن، میٹرو بس، الیکٹرو بس اور فیڈر بس پر سفر مفت ہوگا۔ یانگوکے 6ہزار ر کشے اور24روٹ پر 60ہزار رائیڈ میسر ہوگی۔بسنت ٹریفک پلان کے تحت تمام چھوٹے بڑے رو ڈ اورراستے کور کیے گئے ہیں۔فری رائیڈ کا مقصد بائیک کے استعمال سے روکنا اورنقصان سے بچنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیف سٹی اورکمشنرآفس میں خصوصی کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں،جہاں 24/7ہائی الرٹ ہوگا۔سی سی ٹی وی کیمروں اورڈرون کے ذریعے تین روزہ بسنت میں مانیٹرنگ کی جائے گی۔بسنت پر پولیس،فائربرگیڈ،ایمبولینس اورہیلتھ پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے۔عوام سے ڈس انفارمیشن یا افواہوں پر کان نا دھرنے کی اپیل کرتی ہوں۔بسنت عوام کی تفریح اورخوشی کیلئے ہے،ذہنی کے ساتھ بسنت منائیں۔6فروری کی رات بسنت فیسٹول کی لانچنگ کی جائے گی اور7فروری کو باقاعدہ آغازہوگا۔








