وزیرخزانہ محمداورنگزیب سے برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ کی ملاقات ، باہمی اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال

وزیرخزانہ محمداورنگزیب سے برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ کی ملاقات ، باہمی اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ خطے میں طویل عدم استحکام اقتصادی اعتماد، توانائی کی منڈیوں، سپلائی چین اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی ترقی کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اصلاحات کے ایجنڈے کا مقصد صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ شفافیت کو فروغ دینا، صوابدیدی مداخلت میں کمی لانا اور شہریوں، کاروباری اداروں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کویہاں پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ فار مڈل ایسٹ، افغانستا ن اینڈ پاکستان ہیمش فالکنر سے ملاقات میں کہی۔

ملاقات میں پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے علاوہ ایلس ڈفی، منسٹریل پرائیویٹ سیکرٹری اور برطانوی ہائی کمیشن کے سیکنڈ سیکرٹری (معاشی امور)سربجیت سنگھ کے علاوہ فنانس ڈویژن کے اعلی حکام موجود تھے۔ ملاقات میں علاقائی صورتحال، پاکستان کے معاشی منظرنامے، جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مالیاتی ترجیحات، ادارہ جاتی جدیدکاری اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرخزانہ نے برطانوی وفد کو حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے اورآئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں متعین اہم ترجیحات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے، اقتصادی بحالی کے عمل کو آگے بڑھانے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں تیزی لانے اور جامع و پائیدار ترقی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

گفتگو کے دوران وزیرِ خزانہ نے حالیہ علاقائی پیش رفت کا بھی ذکر کیا جن میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مسلسل مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا رہا ہے اور پاکستان نے ابتدائی مرحلے سے ہی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ خطے میں طویل عدم استحکام اقتصادی اعتماد، توانائی کی منڈیوں، سپلائی چین اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی ترقی کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اپنی اقتصادی منصوبہ بندی اور مالیاتی تخمینوں میں ممکنہ بیرونی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو مدنظر رکھا، جن میں علاقائی غیر یقینی صورتحال کے ممکنہ بالواسطہ معاشی اثرات بھی شامل تھے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کی بہتر ہو رہی صورت حال سے معاشی استحکام، سرمایہ کاری، تجارت اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کیلئے زیادہ سازگار ماحول فراہم پیدا ہو گا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے برطانوی وفد کو پاکستان میں جاری مالیاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے محصولات میں بہتری، ٹیکس نظام میں تعمیل کے فروغ، لیکیجز کے خاتمے اور ٹیکنالوجی، ڈیٹا انضمام، مرکزی پراسیسنگ اور ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے ٹیکس نظام کو جدید بنانے کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈے کا مقصد صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ شفافیت کو فروغ دینا، صوابدیدی مداخلت میں کمی لانا اور شہریوں، کاروباری اداروں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔

ملاقات میں حکومت کے وسیع تر ڈھانچہ جاتی اصلاحاتی پروگرام پر بھی گفتگو ہوئی جس میں نجکاری، سرکاری اداروں کی رائٹ سائزنگ، سرکاری اخراجات کی استعداد میں بہتری، ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی اور ہدفی سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دینے جیسے اقدامات شامل تھے۔ وزیرِ خزانہ نے ٹیکنالوجی کی مدد سے خدمات کی فراہمی اور سرکاری وسائل کے موثر استعمال کے حوالے سے پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔برطانوی وزیر نے اقتصادی اصلاحات کے لیے حکومت کے عزم کو سراہا اور پاکستان کے جاری اصلاحاتی و تبدیلی کے ایجنڈے کی وسعت اور سنجیدگی کو تسلیم کیا۔

انہوں نے اصلاحات کے تسلسل، ادارہ جاتی بہتری اور اقتصادی مسابقت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے باہمی اقتصادی مفادات کے شعبوں میں برطانیہ کی جانب سے مسلسل تعاون اور روابط جاری رکھنے میں دلچسپی کا بھی اعادہ کیا۔ ملاقات کے اختتام پرفریقین نے پائیدار اقتصادی ترقی، ادارہ جاتی بہتری اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعاون اور روابط کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔