اسلام آباد ۔ 24 فروری (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان نے معاون ِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان کے حقیقی تشخص کو ملکی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کےلئے بھرپور کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے یہ ہدایت پیر کو یہاں ملک کا تشخص اور نئے پاکستان کی شناخت کو اجاگر کرنے کے حوالہ سے اعلیٰ سطح کے اجلاس …
وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک کا تشخص اور نئے پاکستان کی شناخت کو اجاگر کرنے کے حوالہ سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ‘ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو پاکستان کے حقیقی تشخص کو ملکی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کےلئے بھرپور کوششیں کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 فروری (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان نے معاون ِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان کے حقیقی تشخص کو ملکی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کےلئے بھرپور کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے یہ ہدایت پیر کو یہاں ملک کا تشخص اور نئے پاکستان کی شناخت کو اجاگر کرنے کے حوالہ سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ اجلاس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر تعلیم شفقت محمود، معاون خصوصی سیّد ذوالفقار عباس بخاری، معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی معید یوسف اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ دورِ حکومت میں نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ اندرون ملک کئی شعبوں میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جس سے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا ہے اور اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی شناخت پر فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کئی دہائیوں کے بعد آج پاکستان کسی اور کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ دنیا میں امن کے فروغ میں متحرک پارٹنر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ضمن میں افغانستان میں امن کی کوششوں میں پاکستان کا کردار، مسلم امہ میں اتحاد کے فروغ کےلئے حکومت پاکستان کی کاوشیں، ملک اور خطہ کی ترقی کےلئے سی پیک منصوبے میں چین کے ساتھ پارٹنر شپ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے علاقائی امن میں کردار کا اعتراف بدلتے پاکستان کا عکاس ہے۔ نیا پاکستان مسلم امہ کے مابین اتحاد اور بھائی چارے کے فروغ میں پل کا کردار ادا کر رہا ہے، موجودہ حکومت کی کوششوں کی بدولت ملکی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، موجودہ دورِ حکومت میں سی پیک کو وسعت دے کر کئی اہم شعبہ جات اس اہم منصوبے میں شامل کئے گئے جس سے نہ صرف تعمیر و ترقی کا سفر تیز ہوا ہے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ سفارتی محاذ پر آج پاکستان تنہائی کا شکار نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ملک کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان کے وژن کے مطابق نئے پاکستان میں ان معاملات پر توجہ دی جا رہی ہے جو ماضی میں یکسر نظر انداز کئے جاتے رہے، ان میں ماحولیات کے تحفظ کےلئے اقدامات اوراسلام فوبیا کے خلاف مو¿ثر آواز بلند کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ وزیرِاعظم پاکستان نے منی لانڈرنگ کے عفریت کے خلاف اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے آواز بلند کی، اندرونی سطح پر ترقی کے سفر میں تمام طبقات کو شامل کیا جانا، کمزور اور ناتواں طبقات کےلئے جامع سماجی تحفظ کے پروگرام کا اجراءاور ریاست کی جانب سے کمزور اور غریب طبقہ کی کفالت کا سہرا موجودہ حکومت کے سر ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایک ایسا پاکستا ن جو امن و امان سے متعلقہ مسائل سے گھرا تھا اور جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر کے مالی نقصان اور ہزاروں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود بھی غیر محفوظ سمجھا جاتا تھا آج ایک نئے تشخص کے ساتھ عالمی سطح پر ابھر رہا ہے، اس کا اعتراف حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے بھی واضح الفاظ میں کیا گیا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ موجودہ دور ِحکومت میں جہاں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے وہاں حکومت بیرونی دنیا سے پاکستان آنے والے سیاحوں، سرمایہ کاروں اور دیگر افراد کو خوش آمدید کر رہی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جہاں بھارت میں اقلیتوں کےلئے زمین تنگ کر دی گئی ہے وہاں حکومت پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا نہ صرف تحفظ کر رہی ہے بلکہ ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے کرتارپور جیسے اقدامات اٹھا رہی ہے، ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک وزیرِاعظم نے بیرون ملک قید پاکستانیوں کےلئے آواز اٹھائی اور ساڑھے 8 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی واپسی یقینی بنائی، آج کا پاکستان عالمی سطح پر خوددار پاکستان کے طور پر ابھر رہا ہے۔ وزیرِاعظم نے معاون ِ خصوصی برائے اطلاعات کو ہدایت کی کہ پاکستان کے حقیقی تشخص کو ملکی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کی جائیں۔








