اسلام آباد ۔ یکم فروری (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی زیر صدارت سیاسی ، معاشی اور عوامی ریلیف سے متعلق صورتحال کے جائزہ اجلاس میں کہا ہے کہ ہم حکومت کرنے نہیں نظام بدلنے آئے ہیں، نظام سے کرپشن کے مکمل خاتمہ تک احتساب کا عمل بھرپور طریقے سے جاری …
وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ، سیاسی، معاشی اور عوام کے ریلیف سے جڑے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم فروری (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی زیر صدارت سیاسی ، معاشی اور عوامی ریلیف سے متعلق صورتحال کے جائزہ اجلاس میں کہا ہے کہ ہم حکومت کرنے نہیں نظام بدلنے آئے ہیں، نظام سے کرپشن کے مکمل خاتمہ تک احتساب کا عمل بھرپور طریقے سے جاری رہے گا، کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی، احتساب کا عمل منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، مسئلہ کشمیر ہماری اولین ترجیح ہے، یکم سے 5 فروری تک ملک بھر میں کشمیریوں کی حمایت میں تقریبات ہوں گی ۔ 5 فروری کو حکومت ، پارٹی، قوم اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر سرکاری اور نجی سطح پر یوم یکجہتی کشمیر بھر پور طریقے سے منائیں گے اور بھارتی انتہا پسند چہرے کو بے نقاب کریں گے۔ ہفتہ کو وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں سیاسی، معاشی اور عوام کے ریلیف سے جڑے اقدامات اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے اور صوبائی حکومت کو آن بورڈ لیتے ہوئے اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نے میڈیا کے نمائندوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر سے متعلق قومی بیانیہ عام کرنے میں اپنا کلیدی کردار مزید موئثر بنائیں تاکہ بھارت کے زیر محاصرہ کشمیری عوام کی آواز کو اجاگر کیا جاسکے اور ہندوستانی استحصالی انتہا پسند سوچ جس کے ذریعے اس نے کشمیریوں کو جکڑ رکھا ہے، کشمیریوں کے آئینی، قانونی اور مذہبی حقوق کو پامال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو اولین ترجیح قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ پارٹی ، حکومت، تمام سیاسی جماعتیں اور عوام مل کر کشمیریوں سے یکجہتی کریں گے، 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھر پور طریقے سے منایا جائے گا، وزیراعظم نے یکم سے 5فروری تک کشمیر سے متعلق تقریبات کے انعقاد کی ہدایت کی ہے کہ پارٹی ارکان تحصیل، ٹاؤن کمیٹیوں ، گلی محلوں میں یکجہتی کشمیر تحریک شروع کریں جو 5 فروری کے بعد بھی جاری رکھی جائیں۔ انہوںنے بتایا کہ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے حوالے سے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے زور دیا ہے کہ میڈیا مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کرنے میں اپنے کردار کو مزید موئثر اور فعال بنائے۔ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں، ملاوٹ مافیا کی سرکوبی اور عوام کی ریلیف میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا اور پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقائی سطح پر ایسے مافیاز کی نشاندہی کرے تاکہ ایسے عناصر کی سرکوبی کی جا سکے۔وزیراعظم نے اجلاس کو مہنگائی کے خاتمے کیلئے اقدامات سے آگاہ کیا، گندم سمگلنگ میں ملوث کوئٹہ کسٹم کولیکٹوریٹ کے 2 کلکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے اور دونوں اہلکاروں کو او ایس ڈی بنا کر ایف آئی اے کو انکوائری سونپ دی گئی ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ وزیر اعظم نے عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نکالنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے مہنگائی کے خاتمے کیلئے اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ نظام سے بد عنوانی اور بد عنوان عوامل کا مکمل خاتمہ وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے اور یہ عمل پورے جوش و جذبے کے ساتھ جاری رہے گا، احتساب کے عمل میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی جس کاوزیر اعظم نے قوم سے وعدہ بھی کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ قوم کا پیسہ لوٹنے والے جعلی اکائونٹس ہوں یا شریفوں کی ٹی ٹیاں یا نظام میں شامل کالی بھیڑیں ہوں سب کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا جنہوںنے نظام کو قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ احتساب کا عمل منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ کسٹم حکام نے طورخم بارڈر پر بھی 2کلکٹرزکو معطل کر کے او ایس ڈی بنا دیاہے اور ان کا کیس بھی ایف آئی اے کو بھیجا جائے گا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا ہے کہ ہم حکومت کرنے نہیں نظام بدلنے آئے ہیں۔ اس نظام میں جو خلاء ہے اس کوٹھیک کرنے آئے ہیں، عوام کے حق کو حقداروںتک پہنچانا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ہیلتھ کارڈ پروگرام کا بھی جائزہ لیا، ہیلتھ کارڈ کے جائزہ کے حوالے سے ٹیم کونظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹلیٹی سٹورز پر یوٹلیٹی پیکج کے تحت جو سات ارب روپے کاریلیف پہنچایا گیا ہے اس حوالے سے ایم ڈی یوٹلیٹی سٹور کو آئندہ اجلاس میں طلب کرکے انہیں ایک ماہ کی کارکردگی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ سندھ میں عوام سیاسی انتقام کا نشانہ بنتے رہے ہیں، ہمیں شخصیات کے سحر سے نکل کر قانون کی عمل داری کو یقینی بنانا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے صاف و شفاف انتخابات کا وعدہ کیا تھا اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کو بااختیاربناتے ہوئے انتخابی عمل بارے ریفارمز لانے کیلئے متعلقہ کمیٹی کو اس کام کو تیز اورموثرانداز فعال بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے اور ملک کا معاشی نظام مستحکم ہورہا ہے، اس پر بھی وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ نواز شریف جو لندن میں مختلف سرگرمیوںمیں مصروف عمل ہیں، ان کی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے ڈاکٹر عدنان پلیٹ لیٹس کے اتار چڑھائو کے حوالے سے قوم کو کم از کم ایک ہفتہ کی رپورٹ شیئر کردیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ آئی جی کلیم امام سے کون سی حکم عدولی سرزرد ہوئی میڈیا بخوبی آگاہ ہے، ہم قانون کی بالادستی کے عزم کو دہراتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک بیانیہ وہاں کے حکمرانوں کا ہے اور دوسرا بیانیہ پولیس گردی، سیاسی انتقام اور استحصال کے شکار سندھ کے عوام کا ہے، قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت جائزہ لے گی۔ ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ حکومت قصیدہ گوئی پر یقین نہیں رکھتی، میڈیا کا ایک اہم کردار ہے، ہم کسی کو نہیں کہتے کہ وہ ہماری قصیدہ گوئی کرے، وزیراعظم کا اس بارے واضح موقف ہے کہ عوام کی فلاح بہبود اوربھلائی کے راستے میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا اسے قانون کی طاقت سے ہٹایا جائے گا، عوامی ریلیف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی کی اکثریت نہیں، کفایت شعاری کے خلاف جو بھی بل ہوگا حکومتی بنچ اس کا حصہ نہیں ہوگا، عوامی کی زندگی میں بہتری، مہنگائی کے خلاف اور معاشی محاذ پر کامیابی ملے گی تو اس کے اثرات سے ہر شہری استفادہ کریگا۔ عمران خان کا جو بھی سپاہی ہے وہ کاز کے ساتھ کھڑا دکھائی دینا چاہئے، جو کاز کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی ذات کے ساتھ کھڑا ہوگا وہ عمران خان کاسپاہی نہیں ہوسکتا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کیوجہ سے ہمارا انحصار زراعت پر ہوتا ہے، زرعی پالیسی میں خامیاں ہیں، 18ویں ترمیم کے بعد یہ خامیاں پیدا ہوئیں، عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے زرعی پالیسی کو قومی ترجیح بنایا ہے، پنجاب بڑا بھائی ہے اور بڑے بھائی کی حیثیت سے اس نے ہمیشہ چھوٹے صوبوں کیلئے بھی کردار ادا کیا ہے لیکن سندھ میں پاسکو کے ذریعے گندم کی خریداری نہیں کی گئی جس کی وجہ سے بحران پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ ڈیٹا بنک بنانے کی طرف جا رہے ہیں تاکہ زرعی اجناس کے حوالے سے یونیفارمڈ ڈیٹا بنک بنایا جاسکے اور طلب و رسد کے فرق کو دور کیا جاسکے اور مستقبل میں بحران سے بچا جاسکے۔ بحیثیت قوم یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہم قومی ذمہ داری کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ اگر سیاق و سباق کے برعکس کوئی بیانیہ اختیار کرتا ہے اورقومی سلامتی سے جڑے بیانیہ کو نظر انداز کرتا ہے تو اس کے ہاتھ اور قلم کو روکنا میری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی بیانیہ کے حوالے سے ازسرنو مل کر زیربحث لاتے ہوئے یک زبان ہونا پڑے گا تاکہ قومی بیانیہ میں اس کی جھلک دکھائی دے۔ قومی بیانیہ سے ہٹنے والی آواز اور قلم کو روکنا میری ذمہ داری ہے جسے ہر پاکستانی حب الوطنی کیلئے ضروری سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہ چین ہمارا تذویراتی شراکت دار اورآزمودہ دوست ہے، کرونا وائرس کے حوالے سے جو ابہام پیدا کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اسے بند ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام شہریوںکی صحت کی فکر ہے ،صحت اور سیکورٹی سب سے زیادہ عزیز ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت نے چینی کی برآمد پر فوری طور پر پابندی لگا دی ہے۔








