اسلام آباد ۔ 07 جولائی (اے پی پی) وزیر اعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے جے آئی ٹی کو ریاست کی طاقت فراہم کی گئی ہے ‘جے آئی ٹی نے 60 دنوں میں اگر انگلستان ‘ پانامہ ‘یو اے ای اورقطر سے کاغذات حاصل نہیں کیے تو پھر کیا کام کیا ہے‘جے آئی ٹی پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے کی بجائے …
وزیر اعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک کا "اے پی پی” کو خصوصی انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 07 جولائی (اے پی پی) وزیر اعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے جے آئی ٹی کو ریاست کی طاقت فراہم کی گئی ہے ‘جے آئی ٹی نے 60 دنوں میں اگر انگلستان ‘ پانامہ ‘یو اے ای اورقطر سے کاغذات حاصل نہیں کیے تو پھر کیا کام کیا ہے‘جے آئی ٹی پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے کی بجائے حدیبیہ پیپر کی تحقیقات میں لگ گئی ہے‘ ہمارے گواہان کو وعدہ معاف گواہ بننے کے لئے دباﺅ ڈالا جارہا ہے‘ قطر ایئر لائن کا ٹکٹ سستا ترین ہے ‘جے آئی ٹی اگر پوری نہیں جاسکتی تو اپنے ممبران کو ہی قطر بھجوا کر قطری شہری کا بیان لے لیتی‘شریف فیملی کے کاروبار کے حوالے سے قطری شہری کا خط اور ڈاکومنٹس اس حوالے سے اہم ترین ہیں ‘تحقیقات کے لئے مدت مکمل ہونے سے چند گھنٹے پہلے قطری شہری کو آخری خط لکھنے کا مطلب جے آئی ٹی اپنی مدت میں توسیع چاہتی ہے۔ وہ جمعہ کو یہاں قومی خبر رساں ادارے "اے پی پی” کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے ۔ وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ شریف خاندان نے پانامہ دستاویزات کیس میں عدل و انصاف کی امید پر اپنے قانونی و آئینی حق سے دستبردار ہو کر اخلاقی فریضہ ادا کرتے ہوئے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا لیکن جے آئی ٹی کے آئین اور قانون سے تجاوز طریقہ کار سے کچھ شکوک وشبہات پھیل رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کیا جے آئی ٹی نے ان تمام ثبوتوں جو شریف فیملی کی جانب سے پیش کیے گئے تھے اور جو پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت عظمی میں پیش کیے گئے ، کی جانچ پڑتال کی ہے ۔ہمارے گواہان کو کہا گیا کہ بیان حلفی واپس لے لو نہیں تو پندرہ سال کے لئے جیل میں ڈال دیا جائے گا ‘کیا یہ انصاف اور غیر جانبداری ہوتی ہے ۔








