وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد کا چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی)وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل ،صنعت و پیداوار عبدالرزاق داﺅد نے کہا ہے کہ ملائیشیا کی جانب سے ٹیلی کام، حلال فوڈ، آئی ٹی اور آٹو سیکٹر میں 800 سے 900 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے، انوسمنٹ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کے بجائے بزنس ٹو بزنس ہو گی۔ ان خایالات کا اظہار وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد …

اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی)وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل ،صنعت و پیداوار عبدالرزاق داﺅد نے کہا ہے کہ ملائیشیا کی جانب سے ٹیلی کام، حلال فوڈ، آئی ٹی اور آٹو سیکٹر میں 800 سے 900 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے، انوسمنٹ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کے بجائے بزنس ٹو بزنس ہو گی۔ ان خایالات کا اظہار وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد نے چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ ملائشیا سے فوڈ، آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے وفود پاکستان آئیں گے ،ملائشیا کے ساتھ بزنس ٹو بزنس تعلقات بہت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائشیا کے ذریعے آسیان ممالک تک برآمدات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام، حلال فوڈ، آئی ٹی اور آٹو سیکٹر میں 800 ملین سے 900 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ انہوں نے ملائیشیا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ انویسمنٹ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کے بجائے بزنس ٹو بزنس ہو گی، دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ اس موقع پر چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ ہمارے لیے ملائیشیا کے بزنس نیٹ ورک اور ٹیکنالوجی سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس فورم میں 30 کے قریب کمپنیوں کے سربراہ شرکت کریں گے اور ملائیشیا کی ساتھ ہماری طویل المدتی کاروباری شراکت ہو گی۔ مشیر تجارت عبد الرزاق داﺅد نے کہا کہ چین، سعودی عرب، یو اے ای، ترکی اور قطر نے توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبہ میں ہماری بہت معاونت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیکھنا پڑا گا کہ کس طرح دوست ممالک کے ساتھ تعلق کو مزید بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملائیشیا کی سرمایہ کاری میں سہولت کار ہو گی یہ سرمایہ کاری بزنس ٹو بزنس ہو گی اور ملائیشیا کے بزنس مین لانگ ٹرم پلیئرز ہیں، وہ اپنے مارکیٹ شیئر کیلئے ضرور آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرمایہ کار سرٹیفکیشن کو اہمیت نہیں دیتے، ہمیں خوراک کی برآمدات میں اضافے کے لئے معیار اور سرٹیفکیشن کو لازمی دیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبہ میں کمپنیاں واپس آئیں گی کیونکہ اس حوالے سے وزارت پٹرولیم ایک نیا پیکج تیار کر رہی ہے۔ اس موقع پر چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف نے کہا کہ سر مایہ کاری کیلئے ہر ملک کی اپنی شرائط ہوتی ہیں لہذا پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے سب ملکوں کو یکساں سہولیات اور فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انڈسٹریل تعاون میں چین، ملائشیا سمیت سب ملکوں کیلئے ایک جیسی مراعات ہیں۔

Leave a Reply