اسلام آباد 18 جون (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ شمسی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں اور موٹر سائیکل آئندہ سال جون میں مارکیٹ میں آجائیں گی‘ خیبر پختونخوا میں بلین ٹری منصوبہ پاکستان کی تاریخ کا شفاف ترین منصوبہ ہے، پاکستان میں ماضی میں شوگر سمیت دیگر مافیا پر ہاتھ ڈالنے کی کسی کو ہمت نہیں ہوئی، ہم …
وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد 18 جون (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ شمسی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں اور موٹر سائیکل آئندہ سال جون میں مارکیٹ میں آجائیں گی‘ خیبر پختونخوا میں بلین ٹری منصوبہ پاکستان کی تاریخ کا شفاف ترین منصوبہ ہے، پاکستان میں ماضی میں شوگر سمیت دیگر مافیا پر ہاتھ ڈالنے کی کسی کو ہمت نہیں ہوئی، ہم پاکستان کو مافیاز سے بچانا چاہتے ہیں،بجٹ میں کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے اور زراعت کے لئے خصوصی فنڈز رکھے گئے ہیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2020-21 ءکے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر ملک امین اسلم نے کہا کہ یہ بجٹ آئندہ مالی سال کے لیے بنایا گیا ہے۔ بجٹ کے اندر کورونا وائرس جیسی وبا سے نمٹنے کے فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں۔ ہم ایک زرعی ملک ہیں اس لئے بجٹ میں زراعت اور فوڈ سیکیورٹی کیلئے خاص اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کا اس حکومت سے پہلے کسی نے نہیں سوچا ان غریبوں کے لئے عمران خان نے لنگر خانے کھولے۔ ہم پاکستان کو مافیاز سے بچانا چاہتے ہیں۔ آج تک کسی میں ہمت نہیں ہوئی کہ وہ شوگر سمیت دیگر مافیا پر ہاتھ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں بلین ٹری منصوبہ پاکستان کی تاریخ کا شفاف منصوبہ ہے۔ پاکستان دنیا کے موسمیاتی تبدیلی کے متاثر ترین ممالک میں شامل ہے۔ ہم ان متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں 22 ارب روپے مختص کیے گئے مگر اس کو تین سال میں 14 ارب روپے میں مکمل کرکے بچت کی گئی۔ اس منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا گیا جس کو عالمی اداروں نے سراہا۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سولر پر چلنے والے موٹرسائیکلز اور گاڑیوں کے منصوبے کے لئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ اس منصوبے پر کام جاری ہے اور امید ہے سولر پر چلنے والے موٹرسائیکلز اور گاڑیاں آئندہ سال جون تک مارکیٹ میں آ جائیں گے۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ 84 ہزار لوگوں کو روزگار دیا گیا ہے یہ لوگ درخت لگا رہے ہیں۔ نرسریوں میں کام کر رہے ہیں۔ضلع اٹک میں لوکل نوکریوں کا کوٹہ نہیں رکھا گیا۔ مقامی لوگوں کا کوٹہ مختص کیا جائے۔








