فیصل آباد۔ 29 نومبر (اے پی پی)وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پنجاب میں چینی صنعتوں کے قیام کیلئے ہر ممکن سہولتیں مہیا کرنے کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں صوبے میں ماحول دوست صنعتوں کے قیام کیلئے ہنر مند افرادی قوت کی تیاری، سماجی قوانین کی پابندی اوربین الاقوامی معیار کی ایکریڈیٹیشن لیبارٹریوں کی اشد …
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی چینی سرمایہ کاروں کے وفد سے ملاقات ، چینی صنعتوں کے قیام کیلئے ہر ممکن سہولیات مہیا کرنے کی یقین دہانی کروائی

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 29 نومبر (اے پی پی)وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پنجاب میں چینی صنعتوں کے قیام کیلئے ہر ممکن سہولتیں مہیا کرنے کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں صوبے میں ماحول دوست صنعتوں کے قیام کیلئے ہنر مند افرادی قوت کی تیاری، سماجی قوانین کی پابندی اوربین الاقوامی معیار کی ایکریڈیٹیشن لیبارٹریوں کی اشد ضرورت ہے۔ وہ چین کے سرمایہ کاروں کے ایک وفد سے خطاب کر رہے تھے، جس نے چینی سفیر مسٹر یائو چنگ کی قیادت میں ان سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے قائم مقام صدر ظفر اقبال سرور کے علاوہ تاجروں ،صنعتکاروں اور اعلیٰ سرکاری افسروں کی ایک بڑی تعدا د بھی موجود تھی ۔ چینی وفد میں انجینئرنگ ، تعمیرات، سرمایہ کاری ، ماحولیات ، توانائی، کلین انرجی، گارمنٹس اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں کے سرمایہ کار شامل تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے چینی وفد کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ صنعتکاری کے مرحلہ کو کامیاب بنانے کیلئے دونوں ملکوں کی حکومتیں مل کر جدوجہد کر رہی ہیں تاکہ بیلٹ اور روڈ منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کر کے اس خطے میں معاشی سرگرمیوں کومزید تیز کیا جا سکے۔ ظفر اقبال سرور نے بتایا کہ چین کی طرف سے پاکستان میں صنعتکاری مستحسن فیصلہ ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور سماجی اور معاشی ترقی کے اہداف کو مل کر حاصل کیا جا سکے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہائی ٹیک صنعتوں کیلئے بہترین ہنر مند افرادی قوت ناگزیر ہے جس کیلئے یہاں فوری طور پر تربیتی ادارے قائم کئے جانے چاہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے مختلف مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانے کیلئے بین الاقوامی طور پر مستند ایکری ڈی ٹیشن لیبارٹریوں کا قیام بھی اشد ضروری ہے۔ انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ چین کو صنعتوں کے قیام کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کیلئے بھی فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔








