کراچی۔ 24 مارچ (اے پی پی) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے لیبر کالونی سکھر میں واقع 640 زائرین جن کے کورونا وائرس کے نتائج منفی آئے ہیں، انہیں ان کے گھروں پر واپس جانے کی اجازت دے دی ہے مگر انہیں دیئے گئے ایس او پی پر عمل کرنے کا پابند کردیاگیا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے یہ فیصلہ یہاں وزیراعلی ہاﺅس میں کورونا وائرس سے متعلق ٹاسک فورس …
وزیر اعلیٰ کی زیرصدارت کورونا وائرس سے متعلق ٹاسک فورس کا 27 واں اجلاس

مزید خبریں
کراچی۔ 24 مارچ (اے پی پی) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے لیبر کالونی سکھر میں واقع 640 زائرین جن کے کورونا وائرس کے نتائج منفی آئے ہیں، انہیں ان کے گھروں پر واپس جانے کی اجازت دے دی ہے مگر انہیں دیئے گئے ایس او پی پر عمل کرنے کا پابند کردیاگیا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے یہ فیصلہ یہاں وزیراعلی ہاﺅس میں کورونا وائرس سے متعلق ٹاسک فورس کے 27 ویں اجلاس میں کیا ۔ اجلاس میں صوبائی وزرا ، مشیر قانون ، چیف سیکرٹری ، آئی جی سندھ ،وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ، سکریٹری داخلہ ، کور 5 ، رینجرز ، پاک بحریہ ، ایف آئی اے ، ایئرپورٹ ، سول ایوی ایشن اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندے شریک تھے۔کمشنر سکھر شفیق میسر نے ویڈیو لنک کے ذریعے وزیر اعلی سندھ کو بتایا کہ یہاں 640 زائرین ہیں جن کا تین بار ٹیسٹ کیا گیا اور ہر بار ان کے ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں ۔ اس پر وزیر اعلی سندھ نے کمشنر سکھر کو خصوصی بسوں کا انتظام کرنے اور 640 کورونا وائرس کے منفی زائرین کو اپنے اپنے گھروں / اضلاع میں بھیجنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو ایس او پی کی تجویز پیش کروں گا جس کے تحت انہیں اگلے 10 دنوں تک اپنے اپنے گھر وں میں خود تنہائی میں رہنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمشنر سکھر کی ٹیم کے پاس زائرین کے موبائل نمبر اور پتے موجود ہوں گے اور وہ ان کی صحت سے متعلق تفتیش کر کے اگلے 10 دنوں تک باخبر رکھیں گے ۔وزیراعلی سندھ نے چیف سکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ ان اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کریں جہاں یہ 640 زائرین جا رہے ہیں، کہ وہ انہیں ریسیو کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کو ذمہ دار بنائیں کہ وہ اگلے 10 دنوں تک زائرین کی ٹریکنگ کرتے رہیں گے۔مراد علی شاہ نے سکھر سے جانے والے زائرین اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کی اور امید کی کہ وہ اپنے کنبہ کے افراد کی صحت اور اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کی صحت کے مفاد میں کم از کم 10 دنوں تک گھروں میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا مجھے بہت خوشی ہے کہ حکومت کے کندھوں پر ایک بہت بڑا بوجھ کم ہو رہا ہے۔وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ کیسوں کی تعداد 410 ہوگئی ہے جس میں کراچی کے 143 ، 265 زائرین اور دیگر اضلاع کے 2 ہیں۔ شہر میں مقامی منتقلی کی تعداد بھی 91 ہوگئی ہے۔وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ 4041 سیمپلز بشمول کراچی کے 2443 ،دیگر اضلاع کے 168 اور1430 زائرین کے نمونوں کی جانچ کی گئی۔ نتیجہ سے پتہ چلتا ہے کہ کراچی کے 143 ، دیگر اضلاع کے 2 اور 265 زائرین کی تشخیص مثبت آئی ۔ چند 485 نتائج بشمول کراچی کے 83 ، دیگر اضلاع کے 93 اور 309 زائرین کے نتائج زیر التواءہیں۔واضح رہے کہ سکھر ۔1 میں 796مریض زیر علاج ہیں ، 303 سکھر II ، 83 لاڑکانہ ، 98 ملیر میں اور 104 گھروں پر آئسولیشن میں ہیں ۔وزیر اعلی سندھ کی ہدایت پر محکمہ صحت نے کورونا کیس میپنگ کا آغاز کردیا ہے ۔ نقشہ سے پتہ چلتا ہے کہ گڈاپ میں تین ، گلشن اقبال میں 15 ، 9 گلبرگ ، جمشید ٹان میں9 ، لیاقت آباد میں 7 ، ملیر میں4 ، 10 ناظم آباد، نارتھ کراچی میں 3 ، اورنگی میں ایک ، صدر ٹان میں 41 کیسز ہیں۔ . اس طرح سے 143 کیسز میں سے 122 کیسز کی میپنگ کی جاچکی ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ میپنگ کے اعداد و شمار ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ محدود علاقوں میں اس پر قابو پانے کے لئے ضروری اقدامات کرسکیں۔روزانہ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعلی کو بتایا گیا کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں نمونیا کے 1874 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ، ان میں سے 251 کے ٹیسٹ کیے گئے جبکہ نجی اسپتالوں میں 702 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور ان میں سے 21 کے ٹیسٹ کیے گئے ۔وزیراعلی سندھ نے اپنے گذشتہ اجلاس میں محکمہ صحت کو ہدایت کی تھی کہ وہ گھروں میں نمونے لینے کے انتظامات کو بہتر بنائیں۔ محکمہ صحت نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ انڈس اسپتال کی 18 موبائل کلینک گاڑیاں نمونے لینے کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ لاک ڈان کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اب بھی بغیر کسی پابندی کے یہاں وہاں نقل و حرکت کررہے ہیں ۔ صرف لاک ڈان مسلط کرنا مقصد نہیں تھا۔انہوں نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ وہ سخت اقدمات کریں اورلاک ڈاﺅن کو مزید سخت بنائیں اور شہر میں لوگوں کو گھومنے نہ دیں۔وزیراعلی سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام دکانیں بشمول کریانے کی دکانیں رات8 بجے سے صبح 8 بجے تک مکمل طورپر بند رہیں گی لیکن میڈیکل اسٹورز اور اسپتال حسب معمول کھلے رہیں گے۔وزیراعلی سندھ نے چیف سیکریٹری اور کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ تمام بڑی صنعتوں کو بند کرادیں اور بینکوں کو ہدایت کریں کہ وہ اپنی ضروری برانچیں کھولیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ڈاکٹر لاک ڈاﺅن سے مستثنی ہوں گے۔ وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ چین کے ووہان انسٹی ٹیوٹ برائے وائرولوجی نے COVID-19 کے نمونے جانچنے کے لئے ایک مشین تیار کی ہے۔ مشین گلے کی swab قبول کرتی ہے جبکہ مروجہ نظام ناک کے swab کو قبول کرتا ہے۔وزیراعلی سندھ نے اپنے پرنسپل سکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر باری کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں اور فیصلہ کریں کہ مشین پاکستان کے لئے موزوں ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ مشین کی خریداری کے حق میں ہو تو پھر 100 مشینوں کی خریداری کا آرڈر کریں ۔انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ ایک خصوصی جہاز سندھ کے لیے مشین کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے بھیجیں۔








