وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد پیش

اسلام آباد۔06اگست(اے پی پی)پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی، غاصبانہ اور یکطرفہ اقدامات اور سینئر کشمیری قیادت کی گرفتاریوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں‘ کشمیریوں کا حق خودارادیت مسلمہ ہے‘ اقوام متحدہ‘ او آئی سی سمیت ساری عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر …

اسلام آباد۔06اگست(اے پی پی)پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی، غاصبانہ اور یکطرفہ اقدامات اور سینئر کشمیری قیادت کی گرفتاریوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں‘ کشمیریوں کا حق خودارادیت مسلمہ ہے‘ اقوام متحدہ‘ او آئی سی سمیت ساری عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر بھارتی بربریت ‘ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انٹرنیٹ سمیت دیگر بندشوں کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان 5 اگست 2019ءکو بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے کے لئے کئے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کا ایک سال مکمل ہونے پر بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرنے کا اعادہ کرتا ہے جس کا مقصد جموں و کشمیر پر اپنے غیر انسانی قبضے کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ ایوان زور دیتا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، دو طرفہ معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایوان بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی طرف سے کوویڈ 19 کی عالمی وباءکا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کرانے کی مذمت کرتا ہے جس کا مقصد ہندو توا کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے خطے کے ڈیموگرافک سٹرکچر کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے واحد مسلم اکثریتی علاقے کے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کے لئے بھارت کے غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں دوطرفہ معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین بشمول چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ قرارداد میں بھارت کی مسلح افواج کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں، چھاپوں اور تلاشیوں میں ماورائے عدالت قتل کرنے اور سینئر کشمیری رہنماﺅں اور کارکنوں کو حراست میں لینے اور قید کرنے کے اقدامات کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد میں بھارتی فورسز کی طرف سے شہداءکے جسد خاکی مناسب تدفین کے لئے ان کے خاندانوں کے حوالے نہ کرنے اور اجتماعی سزا کے طور پر کشمیریوں کے گھر جلانے اور لوٹنے کے واقعات کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی فورسز نے 11 ہزار سے زائد نہتے کشمیریوں بشمول خواتین اور بچوں کو مکمل یا جزوی طور پر پیلٹ گنوں کے ذریعے جان بوجھ کر نشانہ بناتے ہوئے بینائی سے محروم کیا ہے جو کہ بین الاقوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ قرارداد میں مقبوضہ جموںو کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نے ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہتی سویلین آبادی کو تسلسل سے نشانہ بنایا ہے اور بھاری توپ خانے، مارٹر گولوں اور خود کار ہتھیاروں سے گولہ باری کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال کے دوران سیز فائر کی 1800 سے زائد خلاف ورزیاں کی گئی ہیں جس کے نتیجہ میں 18 شہری شہید اور 138 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ قرارداد میں عالمی رہنماﺅں اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے جموں و کشمیر کے تنازعہ پر دیئے گئے بیانات کو سراہا گیا ہے جن میں جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں تنازعہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی ذمہ داری کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان 55 سال سے زائد عرصہ کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جموں و کشمیر کے تنازعہ پر ہونے والے تین مباحث کا خیر مقدم کرتا ہے، اس معاملے پر انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کی طرف سے جاری کی گئی دو رپورٹوں کا بھی قرارداد میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قرارداد میں او آئی سی اور اس کی انسانی حقوق کی باڈی کی طرف سے مسلسل تعاون اور کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے تین اجلاسوں کے انعقاد کو بھی سراہا گیا ہے۔ قرارداد میں دنیا کے بہت سے ارکان پارلیمان، بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی ذرائع ابلاغ کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے جنہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی قبضے اور جاری فوجی کارروائی، مواصلاتی روابط منقطع کرنے اور دیگر پابندیوں کے خلاف نمایاں آواز اٹھائی ہے۔ قرارداد میں برطانیہ کی کے کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ اور کشمیر پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کے دورہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کو بھی سراہا گیا ہے۔ قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماﺅں کے دھمکی آمیز بیانات، بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں اور جنوبی ایشیاءکے امن، سلامتی اور استحکام کے لئے خطرہ ہیں۔ قرارداد میں عالمی برادری کو بھارت کے ممکنہ فالس فلیگ آپریشن اور کسی بھی بنا سوچی سمجھی کارروائی کے حوالے سے دوبارہ خبردار کرتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی جارحانہ کارروائی کا بھرپور موثر جواب دیا جائے گا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند بی جے پی جو آر ایس ایس کے ایجنڈے اور انتہا پسند نظریئے ہندتوا اور اکھنڈ بھارت کے ناپاک عزائم کے تصور پر عمل پیرا ہے جس سے بھارت کے زیر تسلط کشمیری عوام کے علاوہ بھارت میں بسنے والی اقلیتوں اور علاقائی امن و استحکام کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر طویل عرصہ سے موجود ہے اور بھارت کے غیر قانونی اقدامات اس کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ قرارداد میں جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کشمیریوں کا یہ حق تسلیم شدہ ہے۔ قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کے عوام کی لازوال اور غیر متزلزل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 5 اگست 2019ءسے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات ختم کرے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر انسانی فوجی محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے، مقبوضہ علاقہ کی ڈیموکرافگ سٹرکچر تبدیل کرنے کے لئے غیر قانونی اقدامات فوری طور پر بند کرے، کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں، چھاپوں اور سرچ آپریشنز میں ماورائے عدالت قتل کرنے کا سلسلہ بند کرے، غیر قانونی طور پر قید کئے گئے کشمیری نوجوانوں اور سیاسی رہنماﺅں کو رہا کرے، میڈیا، انٹرنیٹ، موبائل کمیونیکیشن، نقل و حرکت اور پر امن اجتماعات کے انعقاد پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں، آزاد مبصرین اور میڈیا کو رسائی فراہم کی جائے، آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے امتناع کے قانون سمیت کالے قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 9 لاکھ فوج کا انخلاءکیا جائے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔ قرارداد میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے اور بھارت کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے سلسلے میں اس کی ذمہ داریوں کی پابندی کرائے اور بین الاقوامی میڈیا، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے اداروں اور آزاد مبصرین کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادانہ رسائی فراہم کرنے کے لئے بھارت پر زور دیا جائے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ ایک کمیشن آف انکوائری قائم کیا جائے جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر اور مسلسل کی جانے والی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے جو کہ کالے قوانین کی آڑ میں کی جا رہی ہیں جیسا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی دونوں رپورٹوں میں بھی تجویز کیا گیا ہے۔ قرارداد میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے جائز اور قانونی حق خود ارادیت کے حصول جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ سپیکر اسد قیصر نے وزیر خارجہ کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد پر ایوان کی رائے حاصل کی۔ پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے قرارداد کی منظوری دیدی۔