وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 20 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اورماڑہ واقعے میں ملوث دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے ایران میں ہیں، مصدقہ اطلاعات کے بعد ایران کیساتھ معلومات کا تبادلہ کیا ہے، ہمارے پاس اس واقعے کے مخصوص فرانزک ثبوت موجود ہیں، بارڈر کی سیکورٹی اور تحفظ کیلئے پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے،نئی جنوبی کمانڈ تشکیل دینے، بارڈر سنٹرز بنانے اور …

اسلام آباد ۔ 20 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اورماڑہ واقعے میں ملوث دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے ایران میں ہیں، مصدقہ اطلاعات کے بعد ایران کیساتھ معلومات کا تبادلہ کیا ہے، ہمارے پاس اس واقعے کے مخصوص فرانزک ثبوت موجود ہیں، بارڈر کی سیکورٹی اور تحفظ کیلئے پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے،نئی جنوبی کمانڈ تشکیل دینے، بارڈر سنٹرز بنانے اور سرحد کی نگرانی کیلئے ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنے سمیت دیگر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس کے دوران ارماڑہ حملے کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ حملے میں 14 پاکستانیوں کوبے دردی سے شہید کیا گیا، جس میں 10 پاکستان نیوی، 3 پاک فضائیہ اور ایک پاکستان کوسٹ گارڈ کا جوان تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم اب تک خاموش اس لئے تھے کیونکہ ہم بھارت کی طرح بغیر کسی تحقیقات کے الزام تراشی نہیں کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس مخصوص فرانزک شواہد موجود ہیں کہ دہشت گرد حملہ بلوچ دہشت گرد الائنس بی آر اے نے کرایا تھا جس کے تربیتی اور لاجسٹک کیمپس ایران کے اندر واقع ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے قابل عمل معلومات ایران کو فراہم کی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا برادر ہمسایہ ملک ہے اور ہمارے اس سے دیرینہ تعلقات ہیں، امید ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کیخلاف بھر پور کارروائی کریگا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے آج ایران کے اپنے ہم منصب جاوید ظریف کیساتھ ٹیلی فون پر تفصیل سے بات چیت کی اور انہوں نے ان عناصر کی نشاندہی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بی آر اے کے تانے بانے افغانستان میں بھی پائے جاتے ہیں،ہم افغانستان سے بھی ان عناصر کیخلاف کارروائی کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ہم توقع رکھتے ہیں کہ افغانستان میں امن کیلئے ہم جس جذبے سے کام کر رہے ہیں وہ بھی اس طرح ہماری مدد کرینگے۔ وزیر خارجہ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاک ایران سرحدکی سیکورٹی اور امن و امان کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جس کے تحت نئی کمانڈ تشکیل دی ہے اور نئی فرنٹیئر کور بھی بنائی ہے ۔اس کے علاوہ مشترکہ بارڈر سنٹرز بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے 950کلو میٹر طویل پاک ایران سرحد پر باڑ بھی لگانے اور سرحدی نگرانی کیلئے ہیلی کاپٹرسروس شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امید ہے ایران پاکستان مخالف عناصر کیخلاف کارروائی میں بھر پور تعاون کریگا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بعض عناصر پاک ایران تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔افغانستان سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارا افغانستان سے مستقبل جڑا ہوا ہے، ایران سے بھی ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات بہتر ہوں تاہم کچھ پابندیاں آڑے آجاتی ہیں، بھارت کے ساتھ بھی تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں اور ہم نے واضح کر دیا ہے کہ دو طرفہ تعلقات کی بہتری اور خطے میں امن و استحکام کیلئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے ان حقیقتوں کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا‘ پاکستان میں ایسی حکومت قائم ہے جو غربت مٹانے کی سوچ رہی ہے، عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کی سوچ رہی ہے۔

Leave a Reply