وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریگولیٹری اداروں کو کاروبار اور سرمایہ کاری میں آسانیاں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں شفاف، منصفانہ اور سازگار کاروباری ماحول کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ کو بھِی یقینی بناناضروری ہے
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ایس ای سی پی کی کارگردگی کا جائزہ، ریگولیٹرز کاروباری آسانیوں کے ساتھ ساتھ قانون کا موثر نفاذ یقینی بنانے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریگولیٹری اداروں کو کاروبار اور سرمایہ کاری میں آسانیاں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں شفاف، منصفانہ اور سازگار کاروباری ماحول کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ کو بھِی یقینی بناناضروری ہے ،سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری ترقی اور مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لئے کاروبار دوست ریگولیٹری فریم ورک انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے یہ بات بدھ کو یہاں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے ،کیپٹل مارکیٹ کے کو وسعت دینے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے کی جانے والی اصلاحات پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو، کمشنرز امتیاز حیدر، محمد علی فرید خواجہ، مظفر احمد مرزا اور ذیشان رحمان خٹک سمیت سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد اور عمر ایم خان بھی اجلاس میں موجود تھے۔
ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے وزیر خزانہ کو ایس ای سی پی کی کارکردگی پر بریفنگ دی ۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران ریکارڈ 18,057 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی، 149 نئی نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کو مختلف سروسز فراہمی کے لائسنسز جاری کئے گئے اور سندھ میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کے کامیاب نفاذ کے بعد صرف تین ماہ میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس میں 1,300 فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ اس سال جنوری سے جون تک صرف چھ ماہ میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 10 ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی اوز) ہوئے اور اس دوران سٹاک مارکیٹ میں 127,907 نئے سرمایہ کاروں کا اضافہ ہوا، جس سے سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد 583,052 سے تجاوز کر گئی ہے۔ایس ای سی پی کی سپروژن اور انفورسمنٹ کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ اس دوران کمیشن نے 75 انسپکشن رپورٹس اور 13 تحقیقات مکمل کیں، رولز اور ریگولیشنز کی نان کمپلائنس کرنے والی کمپنیوں اور سرکاری ملکیتی اداروں کو 534 شوکاز نوٹسز جاری کئے گئے ۔
مالیاتی فراڈ اور غیر قانونی ڈیپازٹ لینے کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 397 فیصلے جاری کئے جن کے نتیجے میں 2 کروڑ روپے سے زائد جرمانے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرائے گئے ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سرکاری ملکیتی اداروں میں گورننس بہتر بنانے کے لئے ایس ای سی پی کے اقدامات کو سراہا اور ہدایت کی کہ متعلقہ وزارتوں کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو عدم تعمیل کے معاملات سے آگاہ رکھا جائے تاکہ بروقت اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔وزیر خزانہ نے کمپنی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور پبلک آفرنگ کے عمل کو مزید آسان بنانے، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے اور انسانی مداخلت کم کرنے پر زور دیا تاکہ کاروباری سرگرمیوں، نئی لسٹنگز اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ڈاکٹر کبیر سدھو نے وزیر خزانہ کو سرمایہ کاروں کی کے وائے سی کے لئے آئی بین بیسڈ سسٹم کے نفاذ ، مارکیٹ میں سرمایی کاری کے لئے’آسان کنیکٹ‘ کی ایپ اور بروکر ریفرل پروگرام پر بھی بریفنگ دی۔








