وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کوپ 31 ایکشن ایجنڈے کے لیے پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی چیلنج موسمیاتی منصوبوں کی تشکیل نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد ہے۔ وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار کوپ 31 کے اجرا کے موقع پرکیا
وزیر خزانہ کی کوپ 31ایکشن ایجنڈے کی حمایت، موسمیاتی منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہے،سینیٹر محمد اورنگزیب

مزید خبریں
نیویارک۔22ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کوپ 31 ایکشن ایجنڈے کے لیے پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی چیلنج موسمیاتی منصوبوں کی تشکیل نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد ہے۔ وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار کوپ 31 کے اجرا کے موقع پرکیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے ایجنڈے کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایجنڈا پاکستان کی قومی موسمیاتی ترجیحات اور قومی سطح پر متعین کردہ شراکت این ڈی سی تھری سے ہم آہنگ ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کی شدید حساسیت کو اجاگر کرتے ہوئے صاف توانائی اور بجلی کے استعمال میں توسیع، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، توانائی کے مؤثر استعمال پر مبنی عمارتوں، موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ شہروں، موسمیاتی تعلیم و عوامی آگاہی، غذائی تحفظ اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زراعت کو مشترکہ ترجیحات قرار دیا۔وزیر خزانہ نے ای۔ ڈی سی کے وعدوں کو قابلِ سرمایہ کاری اور قابلِ مالی معاونت منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے مجوزہ کلائمیٹ امپلیمنٹیشن برج کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اب بنیادی چیلنج موسمیاتی منصوبوں کی تشکیل نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد ہے۔ انہوں نے ایکشن ایجنڈے میں واضح عملی اقدامات اور کارکردگی کے کلیدی اشاریوں کو سراہتے ہوئے اسے عملی، نتائج پر مبنی اور قابلِ پیمائش اثرات پر مرکوز قرار دیا








