وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی طورخم میں مچنی چیک پوسٹ پر بریفنگ اور صحافیوں سے گفتگو

طورخم ۔ 21 دسمبر (اے پی پی) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں دہشت گردی بڑھی لیکن پاکستان میں کم ہوئی، پاکستان میں کوئی دہشت گرد ہیڈ کوارٹرز یا نیٹ ورک نہیں، بچے کھچے دہشت گرد افغانستان بھاگ گئے ہیں اور وہاں سے چھپ چھپا کر آتے ہیں اور گیدڑوں کی طرح عوام پر وار کرتے ہیں، افغانستان ہمارے ساتھ تاریخی، تہذیبی اور …

طورخم ۔ 21 دسمبر (اے پی پی) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں دہشت گردی بڑھی لیکن پاکستان میں کم ہوئی، پاکستان میں کوئی دہشت گرد ہیڈ کوارٹرز یا نیٹ ورک نہیں، بچے کھچے دہشت گرد افغانستان بھاگ گئے ہیں اور وہاں سے چھپ چھپا کر آتے ہیں اور گیدڑوں کی طرح عوام پر وار کرتے ہیں، افغانستان ہمارے ساتھ تاریخی، تہذیبی اور مذہبی رشتوں کا لحاظ کرے اور دشمنوں کے بہکاوے میں آ کر ان کا کھیل نہ کھیلے، دشمنوں کے ملک میں بیٹھ کر جس طرح کی سخت زبان استعمال کی جاتی ہے اس سے افغانستان اور افغانستان کے عوام کے رشتے کی صحیح عکاسی نہیں ہوتی، پاکستانی قوم اور فوج نہ کبھی کسی کے دباﺅ میں آئی ہے نہ آئے گی، جرات اور بہادری میں نہ کوئی ہماری فوج کا مقابلہ کر سکتا ہے نہ عوام کا، ہماری کوشش ہے کہ افغانستان سے دہشت گردوں کا داخلہ روکنے کیلئے 2020ءتک 6 کنٹرول روٹس ہوں، دہشت گردی کیخلاف 90 فیصد جنگ جیت لی۔ بدھ کو طورخم میں مچنی چیک پوسٹ پر بریفنگ کے دوران اظہار خیال اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں اس علاقے کا دورہ کر کے بہت خوشی ہو رہی ہے کیونکہ یہاں کا امن بحال ہو چکا ہے اور امن کی بحالی میں قبائلی عوام کا بھی بڑا کردار ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ علاقے کا امن بحال کرنے میں پاکستان کی مسلح افواج سیکورٹی فورسز کے علاوہ فرنٹیئر کور کا بھی کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کی پاکستان سے محبت نئی نہیں، قبائل نے کشمیر میں بھی پاکستان کی جنگ لڑی۔

مزید خبریں

Leave a Reply