اسلام آباد ۔ 27 جون (اے پی پی) وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کو دو تہائی اکثریت کے بغیر ختم نہیں کیا جاسکتا‘ حکومت کے پاس اس حوالے سے اکثریت نہیں اور نہ ہی حکومت کا کوئی ایسا ادارہ ہے‘ سردار اختر مینگل ہمارے اتحادی ہیں‘ ان کے چھ نکات پر عمل کیا جائے گا‘ بلوچستان کو حکومت کی جانب سے بجلی پر نو ارب …
وزیر دفاع پرویز خٹک کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 جون (اے پی پی) وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کو دو تہائی اکثریت کے بغیر ختم نہیں کیا جاسکتا‘ حکومت کے پاس اس حوالے سے اکثریت نہیں اور نہ ہی حکومت کا کوئی ایسا ادارہ ہے‘ سردار اختر مینگل ہمارے اتحادی ہیں‘ ان کے چھ نکات پر عمل کیا جائے گا‘ بلوچستان کو حکومت کی جانب سے بجلی پر نو ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی جبکہ لوڈشیڈنگ کو کم کرکے تین گھنٹے کیا جارہا ہے۔ جمعرات کو بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل اور وزیراعظم کے مشیر شہزاد ارباب کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس حوالے سے جو پیشرفت ہوئی ہے اس سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا، بی این پی کے چھ نکات پر عملدرآمد میں تاخیر ہوئی ہے لیکن نیت صاف اور ارادے سچائی پر مبنی تھے، ان کے ساتھ جن نکات اور ایجنڈے پر رضامندی ہوئی ہے ان کو پورا کیا جائے گا، ان کا پہلا پوائنٹ لاپتہ افراد کا تھا‘ اس حوالے سے کمیٹی بنا دی گئی ہے، گوادر پر صنعتی زون میں باہر سے آنے والے لوگوں پر خدشات تھے‘ باہر سے آنے والے لوگوں کو شناخت نہیں دی جائے گی، سونے کی ریفائنری بنے گی، بلوچستان میں پانی کے مسئلہ کے حل کے لئے مزید ڈیم بنائے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کے سرکاری محکموں میں نوکریاں اور بلوچستان کے لوگوں کا کوٹہ چھ فیصد کیا جارہا ہے اس پر عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ افغان مہاجرین کا مسئلہ عالمی ہے اور معاہدے کے مطابق 25 لاکھ مہاجرین کو باعزت وطن واپس بھیجا جائے گا۔








