وزیر مملکت اطلاعات و نشریات کی ٹیلی ویژن پروگرام” نکتہ اعتراض“ میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 2 نومبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اہم ذمہ داری سنبھالنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں اور یہ میری والدہ کی دعاﺅں کا نتیجہ ہے، اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عزت دی ہے اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے مجھے یہ اعتماد دیا ہے کہ میں یہ ذمہ داریاں نبھا سکتی ہوں اس لیے …

اسلام آباد ۔ 2 نومبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اہم ذمہ داری سنبھالنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں اور یہ میری والدہ کی دعاﺅں کا نتیجہ ہے، اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عزت دی ہے اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے مجھے یہ اعتماد دیا ہے کہ میں یہ ذمہ داریاں نبھا سکتی ہوں اس لیے میںاس بھاری ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کی پوری کوشش کروں گی اور اللہ تعالیٰ میری رہنمائی و مددبھی فرمائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام” نکتہ اعتراض“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے وقت میں اتنی بھاری ذمہ داری کا ملنا اور مضبوط بنا دیتا ہے اور انسان کی تربیت فوری شروع ہوجاتی ہے اور جس طرح پچھلے تین سال میں میں نے اپنے سینئرز کے ساتھ کام کیا ہے ۔محترمہ مریم نوا زشریف کے ساتھ بہت قریبی طور پرکام کیا جنہوں نے ہمیشہ ہی انتہائی شفقت کا مظاہرہ کیا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی بہت زیادہ رہنمائی کی اور بطور رکن قومی اسمبلی میں جو کام کر سکتی تھی اس میں میری بہت رہنمائی کی۔ میرے ماں باپ سمیت میرے شوہر اور میری بہن عائشہ کا بھی میرے اس جگہ تک پہنچنے میں بہت کردار رہا ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ میرے اعتماد کی حفاظت فرما رہے ہیں اور یقین ہے کہ مستقبل میں بھی اسی طرح حفاظت فرمائیں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف دارالحکومت کو لاک ڈاﺅن کرنا چاہتی تھی اس پر ریاست نے اپنی رٹ قائم کی جو کسی کی جیت ہار نہیں بلکہ یہ پاکستان کی جیت ہے، عمران خان لوگوں کو باہر نکلنے کا کہتے رہے لیکن پاکستانی عوام نے عمران خان کی منفی و احتجاجی سیاست کو مسترد کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ جو پچھلے ایک مہینے سے عوام کو اکٹھا کرنے کے لیے زور لگا رہے تھے عوام نے ان کی اس کال کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ لوگ اس دھرنا وگالم گلوچ کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور ملک میں عدم استحکام نہیں چاہتے او ر اس سے سیاسی ادارہ بھی کمزور ہوتا ہے

Leave a Reply