اسلام آباد ۔ 3 نومبر (اے پی پی)مشیر برائے قانون و انصاف بیرسرسٹر ظفراللہ ‘وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان اور ایم این اے دانیال عزیز پر مشتمل وزیراعظم کی قانونی ٹیم نے کہا ہے کہ بعض سیاسی قائدین پانامہ لیکس پٹیشن کی سماعت کے دوران کارروائی کو عدالت سے باہر آکر میڈیا کے سامنے توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں‘ وزیراعظم کے وکیل نے پٹیشن کے قابل سماعت …
وزیر مملکت انوشہ رحمان اور دانیال عزیز کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 نومبر (اے پی پی)مشیر برائے قانون و انصاف بیرسرسٹر ظفراللہ ‘وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان اور ایم این اے دانیال عزیز پر مشتمل وزیراعظم کی قانونی ٹیم نے کہا ہے کہ بعض سیاسی قائدین پانامہ لیکس پٹیشن کی سماعت کے دوران کارروائی کو عدالت سے باہر آکر میڈیا کے سامنے توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں‘ وزیراعظم کے وکیل نے پٹیشن کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ‘سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے قابل سماعت کے حوالے سے کچھ اعتراض اٹھائے ہیں ‘وقت کم ہونے کی وجہ سے آج کی سماعت میں وزیراعظم محمد نواز شریف ‘وزیر خزانہ اسحاق ڈار ‘کیپٹن (ر) صفدر کے جوابات داخل کرائے گئے ہیںجس میں تمام بے بنیاد الزامات کو مسترد کیا گیا ہے ‘وزیراعظم کے بچوں کا جواب پیر کو داخل کرایا جائے گا جس میں تمام پیرا گرافس کا تفصیلی جواب دیا جائے گا ‘اٹارنی جنرل وزیراعظم کی نمائندگی نہیں کریگا‘عدالت اٹارنی جنرل کو معاونت کے لئے بلا سکتی ہے ۔وہ جمعرات کے شام پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر ر ہے تھے ۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ 24گھنٹے کے نوٹس پر وزیراعظم کا جواب داخل کرایا جس میں تمام حقائق بتائے گئے ہیں ‘اسی طرح وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور کیپٹن (ر) صفدر کے جوابات بھی داخل کرائے گئے ہیں ‘وزیراعظم کی قانونی ٹیم نے ابھی تک کسی بھی قسم کا ٹیکنیکل اعتراض نہیں اٹھایا ۔








