اسلام آباد ۔ 07 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کو سب سے پہلے حمد بن جاسم سے بیان ریکارڈ کرانا چاہیے تھا ‘اگر نیت بیان لینے کی ہے تو دنیا کے کسی کونے میں بھی جا کے لیا جا سکتا تھا لیکن اگر اس کے پیچھے بد دیانتی ہے تو پھر یہ ڈرائیں گے بھی …
وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب کا بیان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 07 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کو سب سے پہلے حمد بن جاسم سے بیان ریکارڈ کرانا چاہیے تھا ‘اگر نیت بیان لینے کی ہے تو دنیا کے کسی کونے میں بھی جا کے لیا جا سکتا تھا لیکن اگر اس کے پیچھے بد دیانتی ہے تو پھر یہ ڈرائیں گے بھی دھمکائیں گے بھی بہانے بھی بنائیں گے مگر قطر نہیں جائیں گے ‘کیوں کے حمد بن جاسم کے بیان کے بعد شریف فیملی کے خلاف کیس ختم ہو جاتا ہے اس لیے بہانے بنائے جا رہے ہیں۔جمعہ کو اپنے بیان میں وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا کہ مشرف جیسے آئین قانون اور قوم کے مجرم سے اگر گھر جا کے بیان لیا جاسکتا ہے تو حمد بن جاسم سے کیوں نہیں بیان لیا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ حمد بن جاسم سے جی آئی ٹی نے پہلے بیان کیوں نہیں ریکارڈ کرایا ۔اگر نیت بیان لینے کی ہے تو دنیا کے کسی کونے میں بھی جا کے لیا جا سکتا تھا لیکن اگر اس کے پیچھے بد دیانتی ہے تو پھر یہ ڈرائیں گے بھی دھمکائیں گے بھی بہانے بھی بنائیں گے مگر قطر نہیں جائیں گے ‘کیوں کے حمد بن جاسم کے بیان کے بعد شریف فیملی کے خلاف کیس ختم ہو جاتا ہے اس لیے بہانے بنائے جا رہے ہیں۔








