وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب کا بیان

اسلام آباد ۔ 07 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کو سب سے پہلے حمد بن جاسم سے بیان ریکارڈ کرانا چاہیے تھا ‘اگر نیت بیان لینے کی ہے تو دنیا کے کسی کونے میں بھی جا کے لیا جا سکتا تھا لیکن اگر اس کے پیچھے بد دیانتی ہے تو پھر یہ ڈرائیں گے بھی …

اسلام آباد ۔ 07 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کو سب سے پہلے حمد بن جاسم سے بیان ریکارڈ کرانا چاہیے تھا ‘اگر نیت بیان لینے کی ہے تو دنیا کے کسی کونے میں بھی جا کے لیا جا سکتا تھا لیکن اگر اس کے پیچھے بد دیانتی ہے تو پھر یہ ڈرائیں گے بھی دھمکائیں گے بھی بہانے بھی بنائیں گے مگر قطر نہیں جائیں گے ‘کیوں کے حمد بن جاسم کے بیان کے بعد شریف فیملی کے خلاف کیس ختم ہو جاتا ہے اس لیے بہانے بنائے جا رہے ہیں۔جمعہ کو اپنے بیان میں وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا کہ مشرف جیسے آئین قانون اور قوم کے مجرم سے اگر گھر جا کے بیان لیا جاسکتا ہے تو حمد بن جاسم سے کیوں نہیں بیان لیا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ حمد بن جاسم سے جی آئی ٹی نے پہلے بیان کیوں نہیں ریکارڈ کرایا ۔اگر نیت بیان لینے کی ہے تو دنیا کے کسی کونے میں بھی جا کے لیا جا سکتا تھا لیکن اگر اس کے پیچھے بد دیانتی ہے تو پھر یہ ڈرائیں گے بھی دھمکائیں گے بھی بہانے بھی بنائیں گے مگر قطر نہیں جائیں گے ‘کیوں کے حمد بن جاسم کے بیان کے بعد شریف فیملی کے خلاف کیس ختم ہو جاتا ہے اس لیے بہانے بنائے جا رہے ہیں۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

Leave a Reply