اسلام آباد ۔ 21 جنوری (اے پی پی)وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں کو نشان عبرت بنائیں گے' جے آئی ٹی کی رپورٹ اس ایوان میں پیش کی جائے گی' طاہر داوڑ کی شہادت کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کی پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ سانحہ ساہیوال کا کوئی جواز فراہم نہیں کیا …
وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 جنوری (اے پی پی)وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں کو نشان عبرت بنائیں گے’ جے آئی ٹی کی رپورٹ اس ایوان میں پیش کی جائے گی’ طاہر داوڑ کی شہادت کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کی پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ سانحہ ساہیوال کا کوئی جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا’ ہم پولیس نظام میں اصلاحات لائیں گے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں سانحہ ساہیوال پر بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ آج قوم میں اضطراب ہے’ آبدیدہ ہے’ والدین کو یہ بات کھٹک رہی ہے کہ ان کا مستقبل کیا ہے’ ساہیوال واقعہ کا جواب ہم دیں گے۔ جب انصاف نہیں ملے گا تو ہر کوئی سوال اٹھائے گا۔ ہم اس ایوان’ پاکستان کے عوام اور اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں کوآرڈیشن نہ ہو’ ذاتی مفادات بالاتر ہوں تو الزام در الزام ہوگا۔ اس واقعہ کا کوئی شخص جواز نہیں دے سکتا۔ جب تک جے آئی ٹی کی رپورٹ نہیں آتی اس وقت تک کوئی بات نہ کرے’ ہم اس کی رپورٹ یہاں پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو عبرتناک سزا نہ دے سکے تو ہمیں اگر وزارت چھوڑنی پڑی تو چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے دروازے فاٹا کے ارکان کے لئے کھلے ہیں۔ جس نے پشتون کی بے عزتی کی اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ طاہر داوڑ کے حوالے سے جرگہ میں محسن داوڑ گئے اور ان کی میت بھی ان کی وجہ سے ملی ان کے شکرگزار ہیں۔ طاہر داوڑ کے حوالے سے پارلیمنٹ کی پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس میں محسن داوڑ شامل ہیں۔ یہ جے آئی ٹی اور یہ پارلیمانی کمیٹی مل کر اس کی تحقیقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے لوگوں کو کس نے حقوق دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب ایک ہیں ‘ مذہب اور مسلک کے نام پر لوگوں کو تقسیم نہ کیا جائے۔ جس ریاست کے اندر سزا و جزا کا تصور نہ ہو تو اس ملک کے فیصلے اغیار کرتے تھے۔ اب فیصلے یہ ایوان کرے گا۔ تحریک انصاف نے یہ کلچر دیا ہے کہ ہم پر نظر رکھیں۔ کلبھوشن یادیو کے خلاف ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی’ تمام سیاسی جماعتیں یہ حلف دیں کہ جب سیاسی جماعت میں ایک بھی مسلح فرد ہو اس کی رکنیت ختم کردی جائے۔ عابد باکسر’ سانحہ ماڈل ٹائون’ رائو انوار سمیت تمام کیس فوجی عدالتوں کو بھجوائے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو فاٹا’ بلوچستان سمیت انصاف نہ ملنے والوں کے معاملات کی تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی 22 سال کی جدوجہد کے بعد ہماری حکومت آئی تو نواز شریف اڈیالہ جیل تھے اور ہماری حکومت کو اس میں رہائی ملی۔ تمام حل طلب مسائل کے حل کے لئے تمام جماعتیں کمیٹی بنائیں اور ان کو حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پولیس ریفارمز بھی کریں گے اور ساہیوال واقعہ کے مجرموں کو نشان عبرت بنائیں گے۔ شہریارآفریدی نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی درخواست طاہر داوڑ کے خاندان کی طرف سے آئی تھی۔ اس کمیٹی کے لئے نام مانگے گئے تھے یہ کل سے کام شروع کردے گی۔







