اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم کو چیلنج کیا گیا یا دھمکی دی گئی تو مزید سرپرائز ملیں گے، حکومت، عوام اور ہماری بہادر مسلح افواج متحد ہیں اور وہ اپنے ملک کے تحفظ کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان پیس کولیکٹیو کے زیر اہتمام …
وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا بحریہ یونیورسٹی میں ذرائع ابلاغ اور تنازعات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم کو چیلنج کیا گیا یا دھمکی دی گئی تو مزید سرپرائز ملیں گے، حکومت، عوام اور ہماری بہادر مسلح افواج متحد ہیں اور وہ اپنے ملک کے تحفظ کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان پیس کولیکٹیو کے زیر اہتمام بحریہ یونیورسٹی میں ذرائع ابلاغ اور تنازعات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں اور اب ہر پاکستانی ملک کے لئے قربانی دینے کی خواہش رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے، پاکستانی فوج کی ان قربانیوں کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی اقدار پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہم اپنی سرزمین کو کسی تخریبی کارروائی کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کانفرنس کے دوران جب وزیر مملکت برائے داخلہ نے شرکاءکو بتایا کہ پاکستان نے دو بھارتی طیارے مار گرائے ہیں تو اس پر شرکاءنے جوش میں کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، قومی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، بھارتی طیارے مار گرانے سے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ بھارت ہمیں چیلنج کرنے کی جرا¿ت نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، اس لئے میڈیا کو حالات کے تناظر میں مناسب انداز میں اپنی رپورٹنگ کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹرز کو اپنے قومی مفادات کے بارے میں سوچنا چاہیے اور کسی ذاتی ایجنڈے کے لئے اس پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، میڈیا انڈسٹری کو صرف منافع کے حصول کے لئے نہیں ہونا چاہیے، ہمیں عملی طور پر ایسی پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس سے ہم اپنی مرضی کے مقاصد حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ناظرین کو راغب کرنے کے لئے حساس معاملات سامنے لا رہا ہے، ہمیں رپورٹنگ کے دوران ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے، اور پاکستان ایک اہم ملک بن کر سامنے آئے گا جو کہ دنیا میں اہم معاملات میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، ہمیں انسانیت کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی صلاحیتوں کو وقف کرنا چاہیے۔ کانفرنس کے دیگر پینلسٹس میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی امریکا کے ڈاکٹر حسن عباس، روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس، سینئر صحافی قطرینہ حسین اور منیجنگ ایڈیٹر انڈیپنڈیٹ اردو ہارون رشید شامل تھے۔ جنہوں نے تنازعات کی رپورٹنگ کے دوران میڈیا کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آئندہ چند برسوں میں اس کے اثرات بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔








