وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ ریاست بلیک میل نہیں ہو گی، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، تمام دنیا کی نظریں ہم پر ہیں، ہمیں مہذب رویوں کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں …

اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ ریاست بلیک میل نہیں ہو گی، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، تمام دنیا کی نظریں ہم پر ہیں، ہمیں مہذب رویوں کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرہ میں ملکی سلامتی اور امن کیلئے وزارت داخلہ کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے اور ہر کسی کو احتجاج اور اپنی آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے لیکن اس کا ایک طریقہ کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بھی اپنی سیاسی زندگی میں ڈرون حملوں، کرپشن اور انتخابی اصلاحات سمیت اہم سیاسی و ملکی معاملات پر سڑکوں پر احتجاج اور لانگ مارچ کیا لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہمیشہ عزت کی اور کبھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا لیکن گذشتہ روز جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور کیمروں نے ہر چیز ریکارڈ کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل اسلام آباد میں جو واقعہ پیش آیا اس میں 9 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، میڈیا کے کارکنوں کو بھی زدوکوب کیا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہاتھ اٹھانے اور انہیں زدوکوب کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو تحفظ دینا میری ذمہ داری ہے کیونکہ یہی وہ جوان ہیں جو مشکل حالات میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست بلیک میل نہیں ہو گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، کسی کو بھی کسی بھی سطح پر قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے ایوانوں کے ممبران سمیت کوئی خود کو بالاتر نہ سمجھے، ریاست آئین و قانون کے خلاف جانے والوں کو مثال بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں، ارکان پارلیمان اور سیاسی قائدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، کوئی مہذب جماعت اور اس کے کارکن قانون نافذ کرنے والے اداروں پر تشدد جیسے فعل کا ارتکاب نہیں کر سکتے، اس کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسا کرنے والوں کو مثال بنایا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ریاستی رٹ کو کبھی چیلنج کیا ہے نہ ہی کریں گے، یہی ہماری سیاسی تربیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل کے واقعہ میں خواہ کوئی منصوبہ بندی کی گئی یا جو بھی محرک تھا کیمرہ کی آنکھ سے چھپ نہیں سکتا، تمام فوٹیجز سے صورتحال واضح ہو جاتی ہے، زیادتی کرنے والوں سے پوچھ گچھ ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں مہذب رویوں کا مظاہرہ کرنا چاہئے، پاکستان پر ففتھ جنریشن وار مسلط کر دی گئی ہے اور تمام دنیا کی نظریں ہم پر ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ریمارکس سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک ایسی سیاسی جماعت جس کی ایک صوبہ میں حکومت ہے اور وہ پارلیمانی جمہوریت پر یقین اور اس کا تجربہ رکھتی ہے اور اس نے نیشنل ایکشن پلان 2014ءپر دستخط کر رکھے ہیں اس کے قائدین کو سوچنا چاہئے کہ وہ کس کا کیس لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست پاکستان میں کسی بھی سطح پر قانون سے کوئی بالاتر نہیں، جو بھی آئین و قانون کے خلاف جائے گا حکومت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم اور حکومت کے ذمہ داران بھی نیب میں پیش ہوئے، دلائل سے اپنی بےگناہی ثابت کرنی چاہئے نہ کہ لوگوں کو جمع کرکے، کل ہم نے برداشت کیا ہے، اب جو قانون کو ہاتھ میں لے گا اس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا پاکستان کے بیانیہ اور مو¿قف کو تسلیم کر رہی ہے، قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور قانون کے مطابق ہی تمام معاملات کو آگے بڑھایا جائے گا، مجھے کسی سے سرٹیفکیٹ نہیں چاہئے، میں نے شدت پسندی کے خلاف جدوجہد کی، اگر میرے کالعدم تنظیموں سے تعلقات تھے تو جب میں نے استعفیٰ دیا تو پیپلز پارٹی کے ایم این ایز سپیکر کے پاس گئے اور کہا کہ شہریار آفریدی کا استعفیٰ قبول نہ کریں، پیپلز پارٹی کی قیادت نے مجھ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں مختلف معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں اور ہم ایک ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور انہیں پورا کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز اگر ہم عوام کو روکتے تو ایک اور تصویر پیش کی جاتی اس لئے ہم نے کسی کو نہیں روکا، سیاسی سرگرمیاں روکنا ہمارا کام نہیں ہے، ہمارا کام تحفظ فراہم کرنا ہے لیکن اگر پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں پر ہی ڈنڈے برسائے جائیں تو یہ مناسب طرز عمل نہیں ہے۔

Leave a Reply