اسلام آباد ۔ 6 اگست (اے پی پی) وزیر مملکت برائے سیفران و انسداد منشیات شہریار خان آفریدی سے امریکا کے قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری برائے ساؤتھ ایشیاء ایلس ویلز اور امریکی سفیر پال جونز نے یہاں منگل کو ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال، افغان امن عمل، افغان مہاجرین کی باوقار وطن واپسی اور ان کے ویزے کے اجراء اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔ …
وزیر مملکت برائے سیفران و انسداد منشیات شہریار خان آفریدی سے امریکا کے قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری فار ساؤتھ ایشیاء ایلس ویلز اور امریکی سفیر پال جونز کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 اگست (اے پی پی) وزیر مملکت برائے سیفران و انسداد منشیات شہریار خان آفریدی سے امریکا کے قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری برائے ساؤتھ ایشیاء ایلس ویلز اور امریکی سفیر پال جونز نے یہاں منگل کو ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال، افغان امن عمل، افغان مہاجرین کی باوقار وطن واپسی اور ان کے ویزے کے اجراء اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔ ملاقات کے دوران امریکی وفد نے افغان مہاجرین کی مدد کیلئے امریکی حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ ایلس ویلز نے حکومت پاکستان کی گذشتہ 40 برس سے لاکھوں افغان مہاجرین کی فراخدلانہ مہمان نوازی اور امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی افغان مہاجرین کیلئے امداد پر عالمی برادری اور امریکی حکومت پاکستان کی شکر گذار ہیں۔ ایلس ویلز نے شہریار آفریدی سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کیلئے ویزا پالیسی اور پاسپورٹ کے اجراء کے امور زیر غور لانے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقیم افغان بزنس کمیونٹی کو مرکزی دھارے میں لانے سے حکومت پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ امریکی حکومت کی افغان مہاجرین کیلئے مسلسل سفارتی اور مالی معاونت کو سراہتے ہوئے وزیر سیفران شہر یار آفریدی نے کہا کہ حکومت افغان مہاجرین کو پاکستان میں ان کے عارضی قیام کے دوران ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کے پاکستان میں 40 سالہ قیام کے دوران افغان مہاجرین اور پاکستانی شہریوں کے درمیان کوئی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ وزیر سیفران شہریار آفریدی نے عالمی برادری کی جانب سے افغان مہاجرین کیلئے امداد میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امداد میںکمی سے افغان مہاجرین کی بہبود اور فلاح کا عمل متاثر ہوگا اور خصوصا تعلیم اور صحت کے شعبے متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان معاشی دباؤ کے باوجود افغان مہاجرین کی امداد کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو نئے اور پرانے ڈونرز کو متحرک کرنا ہوگا تاکہ ان چیلنجز سے نمنٹا جا سکے۔ شہریار آفریدی نے عالمی مہاجرین کیلئے نئی عالمی پالیسی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی میں افغان مہاجرین کے مسائل کے حل کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے معاشی مسائل کے باوجود افغان مہاجرین کی تعلیم اور صحت پر خطیر رقوم خرچ کررہا ہے اور اگر عالمی پالیسی میں تبدیلی نہ لائی گئی تو پاکستان پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔ امریکی وفد اور وزیر سیفران نے فیصلہ کیا کہ ان مسائل پر مزید غور کیلئے ملاقاتوں کا عمل جاری رہیگا اور افغان مہاجرین کے پاکستان میں عارضی قیام کے دوران ان کے مسائل کے حل کیلئے مل جل کر اقدامات کئے جائیں گے۔








