وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے نیویارک میں واقع یونیسیف ہیڈکوارٹر میں ایک اعلیٰ سطحی سٹریٹجک اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عثمان ہمدانی، بانی ڈائریکٹر گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈویلپمنٹ، بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کی یونیسیف ہیڈکوارٹر میں ایک اعلیٰ سطحی سٹریٹجک اجلاس میں شرکت

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے نیویارک میں واقع یونیسیف ہیڈکوارٹر میں ایک اعلیٰ سطحی سٹریٹجک اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عثمان ہمدانی، بانی ڈائریکٹر گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈویلپمنٹ، بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں بچوں اور نوعمر افراد کی ذہنی صحت کے فروغ، باہمی تعاون کے استحکام اور پاکستان و یونیسیف کے درمیان جاری شراکت داری کے تحت ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے نوزائیدہ اور کم عمر بچوں کی اموات میں کمی، کمیونٹی ہیلتھ سسٹمز کی مضبوطی اور ذہنی صحت کی خدمات کی توسیع سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔یونیسیف حکام نے پاکستان میں بچوں اور نوعمر افراد کی ذہنی صحت سے متعلق ایک جامع قومی پالیسی اور ایکشن پلان کی مشترکہ تیاری کی حمایت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ حکومت پاکستان یونیسیف کے تعاون سے اسکولوں کے ذریعے ذہنی صحت کی خدمات کو مرحلہ وار اور مؤثر انداز میں وسعت دے گی، جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے بین الوزارتی ہم آہنگی کو بھی مزید مضبوط بنایا جائے گا۔وزیر مملکت نے پنجاب حکومت کے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر پروگرام میں ذہنی صحت کے انضمام کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کمیونٹی سطح پر آگاہی، خاندانی معاونت اور ذہنی صحت کے مسائل کی ابتدائی تشخیص کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔اجلاس کے دوران عوامی آگاہی مہمات، موسمیاتی تبدیلی اور ذہنی صحت کے باہمی تعلق پر بھی خصوصی گفتگو ہوئی۔ پاکستان نے شرکاء کو نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے تحت جاری اقدامات سے آگاہ کیا اور یونیسیف کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط ذہنی صحت کے نظام کی تشکیل میں تعاون کی دعوت دی۔
پاکستانی وفد نے قومی ذہنی صحت پالیسی کی تیاری اور نیشنل ہب آف ایکسی لینس فار مینٹل ہیلتھ کے قیام کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ یونیسیف اور حکومت پاکستان یکم تا 2 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں عالمی یومِ ذہنی صحت کے حوالے سے ایک اہم بین الاقوامی اجتماع کے انعقاد میں شراکت دار ہوں گے۔ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ بچوں اور نوعمر افراد کی ذہنی صحت، موسمیاتی تبدیلی کے ذہنی اثرات، اسکول مینٹل ہیلتھ پروگرامز، ڈیٹا سسٹمز اور نیشنل ہب آف ایکسی لینس جیسے شعبوں میں یونیسیف کا تعاون نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والا یہ عالمی اجتماع پاکستان کو 2028 میں گلوبل مینٹل ہیلتھ منسٹریل سمٹ کی میزبانی کے ہدف کے مزید قریب لے جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یونیسیف کے اعلیٰ حکام نے پاکستان کے ساتھ ادارے کی دیرینہ شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم ملک ہے اور یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ ملک ذہنی صحت کو قومی ترجیحات میں شامل کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سکولوں، بنیادی مراکز صحت (BHUs) اور کمیونٹی نظام کے ذریعے ذہنی صحت کی خدمات کو مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔یونیسیف حکام کے مطابق سکول سسٹم کے ذریعے ذہنی صحت کے پروگراموں کی توسیع ایک مؤثر اور کم لاگت حکمت عملی ہے، بالخصوص جب اسے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹی پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط کیا جائے۔اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقوں نے پاکستان میں بچوں، نوجوانوں، خاندانوں اور کمیونٹیز کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید تیز اور مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔








