اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ جس نے قومی خزانہ لوٹا ہے اس سے لوٹی گئی دولت واپس لی جائے گی اور احتساب جاری رہے گا، ماضی میں کئی دہائیوں تک حکمران رہنے والے بتائیں کہ انہوں نے اس دیس کی ماﺅں کو بھیک مانگنے پر مجبور کیوں کیا؟ سرکاری اخراجات پر عمرے اور نجی دورے …
وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا قومی اسمبلی اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ جس نے قومی خزانہ لوٹا ہے اس سے لوٹی گئی دولت واپس لی جائے گی اور احتساب جاری رہے گا، ماضی میں کئی دہائیوں تک حکمران رہنے والے بتائیں کہ انہوں نے اس دیس کی ماﺅں کو بھیک مانگنے پر مجبور کیوں کیا؟ سرکاری اخراجات پر عمرے اور نجی دورے کر کے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا، سب سے پہلے سیاستدان جواب دہ ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ ءاعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ خواجہ آصف کی تقریر سے لگتا ہے کہ گزشتہ 50 سال سے یہ لوگ اقتدار میں نہیں تھے، انہوں نے ان ادوار میں آمروں کے ساتھ دوسرے کرداروں کی بات نہیں کی، انہوں نے آئین شکنوں کی بات نہیں کی، آئین کے تحت حلف اٹھا کر آئین شکنی کرنے والوں کی بات نہیں کی، یہ اپنے اقتدار کے ادوار کا حساب دیں ہم اپنے 10 ماہ کا جواب دیں گے، ہم نے قائداعظم کے فرمودات پر کتنا عمل کیا، وہ بستر مرگ پر تھے اور سرکار کے خرچے پر کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور اس کھانے کے پیسے دیئے۔ یہ باعث شرم ہے کہ ایک وزیراعظم کے عمرے کا خرچہ بھی اس قومی خزانے سے دیا گیا۔








