جنگلات کی بحالی سے خوراک اور ماحولیاتی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، ایف اے او

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر جنگلات اور قدرتی ماحول کی بحالی سے خوراک کی کمی

روم۔28ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر جنگلات اور قدرتی ماحول کی بحالی سے خوراک کی کمی، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع جیسے اہم عالمی مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایف اے او کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں جنگلات تقریباً 4.14 ارب ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور یہ بڑی مقدار میں کاربن ذخیرہ کرنے کے ساتھ دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی کے روزگار اور خوراک کا ذریعہ بھی ہیں۔ تاہم 1990 سے 2025 تک تقریباً 48 کروڑ 90 لاکھ ایکڑ جنگلات ختم ہوچکے ہیں جبکہ 46 کروڑ ایکڑ سے زیادہ جنگلات متاثر یا تباہ حال ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ زمین کی بحالی نہ ہونے سے عالمی معیشت کو سالانہ 878 ارب سے 6.3 کھرب ڈالر تک نقصان ہوسکتا ہے، جبکہ ایک ارب ایکڑ سے زائد تباہ حال زمین بحال کرنے سے سالانہ 1.8 کھرب ڈالر تک فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ایف اے او نے حکومتوں پر جنگلات کی بحالی کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری، عوام کی شمولیت اور مؤثر پالیسیوں پر زور دیا ہے۔