اسلام آباد ۔ 8 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کی مشترکہ صدارت میں غذائی اجزاءکی کمی اور چھوٹے قد پر قابو پانے کیلئے اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے صحت اور پلاننگ کے سیکرٹریز اور نیوٹریشن پر کام کرنے والے سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ …
وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کی مشترکہ صدارت میں غذائی اجزاءکی کمی اور چھوٹے قد پر قابو پانے کیلئے اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کی مشترکہ صدارت میں غذائی اجزاءکی کمی اور چھوٹے قد پر قابو پانے کیلئے اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے صحت اور پلاننگ کے سیکرٹریز اور نیوٹریشن پر کام کرنے والے سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر وزارت صحت نے 538 ارب کی لاگت سے جامع پروگرام ترتیب دیا ہے، ہمارے بچوں کی غذائی قلت ایک المیہ ہے، مجموعی طور ہم سب ذمہ دار ہیںکیونکہ ہم سب نے نیوٹریشن کے حوالے سے بہت کم کام کیا ہے، پاکستان میں بچوں کی شرح اموات میں سب سے اہم غذائی اجزاءکی کمی ہے، بچوں کی نشو و نما میں حائل غذائی قلت پر قابو نہ پایا تو قومی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کئے جا سکیں گے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد بچے چھوٹے قد کے شکار ہیں جو ذہنی نشو و نما اور صلاحےتوں میں کمی کا سبب ہے۔ انہوں نے کہا بحیثیت مجموعی بیماریوں کو صحت کے تناظر میں دیکھنا ہو گا، بیماریوں کی روک تھام اس وقت ممکن ہے جب ہم اس پر خرچ کریں گے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ نیوٹریشن کے جامع پروگرام کو عملی شکل دینے سے پہلے صوبے اپنی سفارشات 15 نومبر تک وزارت صحت کو ارسال کریں، 30 نومبر تک اس کے پی سی ون کی گرانٹ کی منظوری سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے حاصل کی جائے گی تاکہ 2020 سے اس کی منظوری لے کر کام شروع کیا جا سکے۔ پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ صحت کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کا ہے غذائی قلت اور کوتاہ قد پر قابو پانے میں صوبوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہا صحت مند بچے مستقبل کے پاکستان کا سرمایہ اور ترقی کا راز ہیں ترقی حاصل کرنے کے لیے ہم نے آج اس طرف توجہ دینی ہو گی۔








