وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہا ہے کہ وسطی ایشیا اور پاکستان کے درمیان نئی راہداری سے تجارت کو زیادہ مضبوط، تیز رفتار اور متنوع بنانے میں مدد ملے گی
وسطی ایشیا اور پاکستان کے درمیان نئی راہداری سے تجارت کو زیادہ مضبوط، تیز رفتار اور متنوع بنانے میں مدد ملے گی،خرم شہزاد
اسلام آباد۔23اپریل (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہا ہے کہ وسطی ایشیا اور پاکستان کے درمیان نئی راہداری سے تجارت کو زیادہ مضبوط، تیز رفتار اور متنوع بنانے میں مدد ملے گی، اس سے نہ صرف تجارتی لاگت کم ہونے کی توقع ہے بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون اور رابطہ کاری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پراپنے ایک پیغام میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے علاقائی تجارت کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا اورکرغزستان سے آنے والا پہلا مال بردار ٹرک گلگت بلتستان کے سرحدی مقام سوست پہنچ گیا، اس پیشرفت کے ساتھ ایک نئی تجارتی راہداری قائم ہو گئی ہے جوافغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا اور پاکستان کے درمیان براہِ راست تجارتی رابطہ فراہم کرے گی۔انہوں نے کہاکہ یہ تاریخی پیشرفت اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ آزادریاستوں کی دولتِ مشترکہ (سی آئی ایس) کے کسی ملک نے پہلی بار اپنی ہی ٹرانسپورٹ کے ذریعے پاکستان تک براہِ راست رسائی حاصل کی ہے، یہ اقدام روایتی تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے اور متبادل راہداریوں کو فعال بنانے کی سمت ایک بڑی پیشرفت ہے۔خرم شہزادنے کہاکہ منصوبے کی قیادت پاکستان کے معروف برآمدی ادارے ہیمان گروپ نے کی جس سے نجی شعبے کی جانب سے سرحد پار تجارت اور لاجسٹکس میں جدت لانے کی صلاحیت کا اندازہ ہواہے اس طرح کے اقدامات نہ صرف برآمدات کوفروغ ملے گا بلکہ علاقائی معیشتوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد ملے گی۔مشیرخزانہ نے کہاکہ اس سنگِ میل کو ممکن بنانے میں پاکستان میں کرغزستان کے سفارتخانہ نے کلیدی کردار ادا کیا جبکہ آپریشنل سطح پر نیشنل لاجسٹک سیل کے شراکت دارادارے نے تعاون فراہم کیا ، سرکاری اور نجی شعبے کے باہمی اشتراک نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ اس راہداری کو مستقل بنیادوں پر فعال رکھنے سے پاکستان کے لئے وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی آسان ہو جائے گی اور علاقائی تجارت میں پاکستان کا کردار مزید مستحکم ہو گا۔









