وفاقی آئینی عدالت نے نگران حکومتوں کے اختیارات اور ان کے دور میں ہونے والی بھرتیوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے بعض بھرتیوں کو خلاف قانون قرار دے دیا ہے، تاہم عدالت نے ملازمین کی برطرفی کے لئے بنائے گئے خیبرپختونخوا قانون کو آئین کے مطابق قرار دیتے ہوئے اپیلیں خارج کر دی ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت ،نگران حکومتوں کے دور میں ہونے والی بعض بھرتیاں خلاف قانون قرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے نگران حکومتوں کے اختیارات اور ان کے دور میں ہونے والی بھرتیوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے بعض بھرتیوں کو خلاف قانون قرار دے دیا ہے، تاہم عدالت نے ملازمین کی برطرفی کے لئے بنائے گئے خیبرپختونخوا قانون کو آئین کے مطابق قرار دیتے ہوئے اپیلیں خارج کر دی ہیں۔
جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ نگران حکومت کا بنیادی کردار صرف روزمرہ امور کی انجام دہی تک محدود ہوتا ہے اور وہ ایسے فیصلے نہیں کر سکتی جن کی نوعیت مستقل یا دیرپا ہو۔عدالتی فیصلے کے مطابق نگران حکومتیں منتخب حکومتوں کے مساوی اختیارات نہیں رکھتیں اور ان کے اہم نوعیت کے اقدامات بالخصوص تقرریاں اور پالیسی فیصلے الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری سے مشروط ہوتے ہیں۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ملازمین کی بھرتیاں مستقل نوعیت کا اقدام ہے اس لئے جنوری 2023 سے فروری 2024 کے دوران کی گئی بھرتیاں قانون کے دائرے میں نہیں آتیں اور انہیں غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کو انتخابات کے نتیجے میں حاصل شدہ آئینی اختیار کے تحت قانون سازی کا حق حاصل ہے اور اگر کسی قانون سے چند افراد متاثر ہوں تو اس بنیاد پر اسے بنیادی حقوق کے منافی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ملازمین کی برطرفی سے متعلق بنایا گیا ایکٹ 2025 آئین سے متصادم نہیں ، اس لئے برطرف ملازمین کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کر دی گئیں۔واضح رہے کہ نگران حکومت کے دوران درجہ چہارم کے ملازمین کی بھرتیوں کے بعد عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت نے ان بھرتیوں کو چیلنج کرتے ہوئے بعض ملازمین کو برطرف کیا تھا جس کے خلاف متاثرہ ملازمین نے عدالت سے رجوع کیا ۔








