اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق دائر آئینی درخواستوں پر سماعت کے دوران وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب پر بحث ہوئی جبکہ مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کے سامنے اپنے تفصیلی دلائل جاری رکھے۔ دلائل مکمل نہ ہو سکے جس پر عدالت نے مزید سماعت 8 جنوری (جمعرات) تک ملتوی …
وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت، ایف بی آر کے تحریری جواب کا دفاع، مخدوم علی خان کے دلائل جاری، سماعت 8 جنوری تک ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق دائر آئینی درخواستوں پر سماعت کے دوران وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب پر بحث ہوئی جبکہ مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کے سامنے اپنے تفصیلی دلائل جاری رکھے۔
دلائل مکمل نہ ہو سکے جس پر عدالت نے مزید سماعت 8 جنوری (جمعرات) تک ملتوی کر دی۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو سپر ٹیکس کیسز کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ایف بی آر کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھرایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی جانب سے جمع کرایا گیا تحریری جواب عدالت کے ریکارڈ پر موجود تھا، جس میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4C کی آئینی حیثیت کا بھرپور دفاع کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے تحریری جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکشن 4C، جو فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے متعارف کرایا گیا، آئین کے آرٹیکل 73 کے تحت ایک منی بل کے طور پر نافذ ہوا، اس لیے اسے آئینی ہونے کا مضبوط مفروضہ حاصل ہے۔ تحریری جواب میں واضح کیا گیا کہ سپر ٹیکس زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد اور بڑی کارپوریٹ کمپنیوں پر عائد کیا گیا ایک الگ چارجنگ پروویژن ہے، جو دہرا ٹیکس نہیں اور ایک ہی آمدن پر دوبارہ ٹیکس عائد نہیں کرتا۔
ایف بی آر نے ہائی کورٹس کے فیصلوں کے حوالے سے واضح کیا کہ ’’ریڈنگ ڈاؤن ‘‘ کے اصول کا غلط استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے عدالتوں نے قانون ساز کی نیت کے برعکس قانون کی ازسرِنو تشکیل کی اور سپر ٹیکس کو غلط طور پر ماضی سے لاگو قرار دیا۔ تحریری جواب میں مؤقف اپنایا گیا کہ پارلیمنٹ کو اوپن ٹیکس ایئر کے لیے ٹیکس شرحیں مقرر کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے جبکہ غیر تعزیری مالی اقدامات کو ماضی سے نافذ کرنا بھی آئینی طور پر جائز ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ٹیکس عائد کرنا خالصتاً قانون سازی کی پالیسی کا معاملہ ہے جس میں عدالتی مداخلت محدود ہونی چاہیے۔ تحریری جواب میں زور دیا گیا کہ پارلیمانی بالادستی اور اختیارات کی تقسیم کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکشن 4C کو آئین کے آرٹیکل 25 اور بین الاقوامی مالیاتی اصولوں کے مطابق جائز اور آئینی قرار دیا جائےجبکہ امتیاز کے الزامات کو مسترد کیا جائے۔
دوسری جانب مختلف ٹیکس دہندہ کمپنیز کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی ٹیکس کی وصولی کے لیے قانون میں واضح اجازت موجود نہ ہو تو یہ ٹیکس اب تک کس بنیاد پر وصول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سیکشن 4C کو مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شق وفاقی آئین سازی کے طے شدہ معیار پر پورا نہیں اترتی اور کاروباری برادری پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ایف بی آر اور کمشنرز کو فریق بنایا گیا تھاجس پر وکیل نے تصدیق کی کہ دونوں ادارے فریق تھے۔مخدوم علی خان نے مزید کہا کہ سپر ٹیکس کا آغاز 2015 میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4B کے تحت کیا گیا، جبکہ بعد ازاں سیکشن 4C کے ذریعے اس کا دائرہ اور شرحیں مختلف سیکٹرز کے لیے مقرر کی گئیں و وقت کے ساتھ امتیازی نوعیت اختیار کر گئیں۔
اس موقع پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ یہ وہ دور تھا جب بینک صارفین کو 22 فیصد تک منافع دے رہے تھے، کیا سپر ٹیکس کی شرح میں اضافہ اسی معاشی پس منظر میں نہیں کیا گیا؟عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 8 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے مخدوم علی خان کو آئندہ سماعت پر دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔








