اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ایف بی آر کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر سپرٹیکس کیس کی سماعت بدھ 7جنوری تک ملتوی کردی ۔ وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیسز کی سماعت منگل کو چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکلا عاصمہ حامد ،حافظ احسان کھوکھر اور ڈاکٹر شاہنواز نے …
وفاقی آئینی عدالت نے ایف بی آر کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر سپرٹیکس کیس کی سماعت بدھ 7جنوری تک ملتوی کردی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ایف بی آر کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر سپرٹیکس کیس کی سماعت بدھ 7جنوری تک ملتوی کردی ۔ وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیسز کی سماعت منگل کو چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکلا عاصمہ حامد ،حافظ احسان کھوکھر اور ڈاکٹر شاہنواز نے اپنے دلائل مکمل کیےجبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عاصمہ حامد کے دلائل کو اپناتے ہوئے ان کی تائید کی۔
دلائل کے دوران ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامدنے سپرٹیکس سیکشن فور سی کے تحت مختلف سیکٹرز پر عائد شرح کی تفصیلات سے عدالت کوآگاہ کیا اور بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4-سی کے تحت ہدف سے کم آمدن پر سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔احسان کھوکھر کے مطابق تمام شعبے دس فیصد سپر ٹیکس ادا نہیں کر رہے، ٹیکسٹائل ملز چار فیصد ٹیکس دے رہی ہیں۔ ایف بی آر کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس نکتے پر واضح وجوہات تحریر نہیں کیں جبکہ سیکشن 4۔سی کی غیر موجودگی میں بھی ماضی میں ٹیکس عائد کیے گئے جو برقرار رہے۔ؔ
سماعت کے دوران مخدوم علی خان، فروغ نسیم اور سلمان اکرم راجہ بھی روسٹرم پر آئے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر زبانی دلائل کے ساتھ تحریری دلائل بھی جمع کرائے گا، جس پر ٹیکس دہندگان کے وکلا تحریری جواب داخل کریں گے۔چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ پہلے جو وقت صرف ہوا، اسے ضائع سمجھا جائے۔ اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ الزام کسی پر نہیں لگانا چاہیے۔
عدالت میں یہ سوال بھی زیر بحث آیا کہ ایف بی آر کا تحریری جواب کب تک جمع ہوگاجس پر چیف جسٹس نے کل تک کی مہلت دے دی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ ایف بی آر کے جواب کا مطالعہ کر کے کل دلائل دیں گے۔وقفے کے بعد سماعت میں حافظ احسان کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ سپر ٹیکس کیسز میں ہائی کورٹس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ سپر ٹیکس ایک اضافی ٹیکس ہے اور آمدن بڑھنے پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے اسی مقصد کے لیے شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔حافظ احسان کھوکھر نے مزید کہا کہ سول، سیاسی اور دیگر کیسز الگ نوعیت کے ہوتے ہیں جبکہ ٹیکس کیسز مختلف ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ہائی کورٹس فیصلے تو دے سکتی ہیں، حق میں ہوں یا خلاف، مگر قانون کی تشریح کا اختیار نہیں رکھتیں۔ٹیکس دہندگان کے وکیل مخدوم علی خان بدھ کو اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔








