اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے قاری (بی پی ایس-12) کی تقرری میں شہادت العالمیہ پر نمبر نہ دینے کے خلاف دائر درخواستِ اجازتِ اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔وفاقی آ ئینی عدالت کی جانب سے رپورٹنگ کے لیےمنظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے کے مطابق جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ …
وفاقی آئینی عدالت نے قاری کی تقرری میں اہلیت کا معیار درست قرار دے کر اپیل خارج کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے قاری (بی پی ایس-12) کی تقرری میں شہادت العالمیہ پر نمبر نہ دینے کے خلاف دائر درخواستِ اجازتِ اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔وفاقی آ ئینی عدالت کی جانب سے رپورٹنگ کے لیےمنظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے کے مطابق جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شمس الدین کی جانب سے دائر ایف سی پی ایل اے نمبر 338 آف 2025 کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار نے پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ کے 23 اکتوبر 2025 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شمس الدین نے محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن چترال میں قاری (بی پی ایس-12) کی آسامی کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ان کے پاس شہادت العالمیہ کی سند موجود ہے تاہم حکام نے اس پر نمبر شمار نہیں کیے جس کے باعث ان کی میرٹ پوزیشن متاثر ہوئی اور تقرری ممکن نہ ہو سکی۔درخواست گزار نے اشتہار میں شامل اس شرط کو بھی چیلنج کیا تھا جس کے تحت شہادت العالمیہ، درجہ عالیہ یا درجہ خاصہ پر قاری کے عہدے کے لیے نمبر نہ دینے کی وضاحت کی گئی تھی، اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ شرط غیر قانونی اور بلاجواز ہے۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ متعلقہ اشتہار میں واضح طور پر درج تھا کہ شہادت العالمیہ کے نمبر صرف عربی ٹیچر (AT) اور تھیالوجی ٹیچر (TT) کی آسامیوں کے لیے قابلِ قبول ہوں گے، جبکہ دیگر کیڈرز بشمول قاری کے عہدے کے لیے اس سند پر کوئی نمبر نہیں دیے جائیں گے۔بینچ نے مزید کہا کہ قاری (بی پی ایس-12) کے لیے مطلوبہ اہلیت بیچلر ڈگری اور تسلیم شدہ ادارے سے قرأت کی سند ہےجیسا کہ خیبر پختونخوا سول سرونٹس (اپائنٹمنٹ، پروموشن اینڈ ٹرانسفر) رولز 1989 اور متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشنز میں واضح طور پر درج ہے۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا اور تمام امیدواروں پر یکساں اصول لاگو کیے گئے۔عدالت نے قرار دیا کہ اشتہار میں درج شرائط قانون کے مطابق ہیں، درخواست گزار مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے تھے، لہٰذا درخواست بے بنیاد ہے۔ اس بنیاد پر اجازتِ اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔








