اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات اور حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا، جبکہ عدالت نے واضح کیا کہ اپنے فیصلے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے باقاعدہ ٹائم لائن بھی دی جائے گی۔کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اب …
وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات اور حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا، جبکہ عدالت نے واضح کیا کہ اپنے فیصلے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے باقاعدہ ٹائم لائن بھی دی جائے گی۔کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اب پانچ سال تک اس مقدمے کو زیرِ التوا نہیں رکھا جائے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر الیکشن کمیشن رضامندی دے تو کیا اپریل میں کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کروا دیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ کوئٹہ محض دس کلومیٹر کا شہر ہے، اس کے باوجود اتنا بڑا ادارہ ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن دس کلومیٹر کے علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی حلقہ بندیاں تو دو ہفتوں میں بھی ممکن ہیں۔ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ 2022 میں قانون میں ترمیم کر کے کوئٹہ کو میٹرو پولیٹن سٹی قرار دیا گیا۔ اس موقع پر ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن اس وقت پنجاب اور اسلام آباد میں بھی انتخابی امور پر کام کر رہا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر الیکشن کمیشن نے اس وعدے کو پورا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ اور پھر آئینی عدالت تک پہنچ گئے، لیکن اس دوران بھی اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے۔ عدالت نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن ایسی باتیں کر رہا ہے جو وہ خود کرنے کے قابل نہیں ۔ نمائندہ الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے قانون میں تبدیلی کر دی جاتی ہے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خدارا ایسے نہ کریں۔
ڈی جی الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ صرف کوئٹہ کی حلقہ بندیوں کے لیے الیکشن کمیشن کو 90 دن درکار ہوں گے۔سماعت کے اختتام پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت سے حکومت سے ہدایا ت لینے کے لیے مہلت طلب کی۔ وفاقی آئینی عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔








