اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ضمیر، ہمدردی یا مساوات (Equity) قانون کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں اور ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت قانون کی عدم موجودگی میں جذبات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتیں نہ ہی تعلیمی اداروں کو ایسے خصوصی یا سپر سپلیمنٹری امتحانات کے انعقاد کا پابند …
وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹس کو قانون کے بغیر خصوصی امتحانات کا حکم دینے سے روک دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ضمیر، ہمدردی یا مساوات (Equity) قانون کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں اور ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت قانون کی عدم موجودگی میں جذبات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتیں نہ ہی تعلیمی اداروں کو ایسے خصوصی یا سپر سپلیمنٹری امتحانات کے انعقاد کا پابند کیا جا سکتا ہے جن کی اجازت کسی قانون، قاعدے یا ضابطے میں موجود نہ ہو۔
وفاقی آئینی عدالت پاکستان کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ اٹھارہ صفحات پر مشتمل تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان باریچ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایف سی پی ایل اے نمبر 14 آف 2025 کی سماعت کے بعد جاری کیا۔ یہ اپیل سندھ ہائی کورٹ سرکٹ کورٹ لاڑکانہ کے 6 نومبر 2025 کے حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی۔عدالتی فیصلے کے مطابق جواب دہندہ الطاف حسین سومرو چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے دوسرے سال کے ایم بی بی ایس کے طالب علم تھے جو گردے کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کے باعث سالانہ امتحانات اور بعد ازاں فزیالوجی کے سپلیمنٹری امتحان میں شرکت نہ کر سکے۔
طالب علم نے یونیورسٹی انتظامیہ سے خصوصی رعایت کی درخواست کی، تاہم وائس چانسلر نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں جس کے بعد طالب علم نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔سندھ ہائی کورٹ نے معاملے کو غیر معمولی حالات قرار دیتے ہوئے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کو طالب علم کے لیے خصوصی/سپر سپلیمنٹری امتحان منعقد کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب کسی درخواست گزار کا کوئی قانونی حق موجود نہ ہو تو رِٹ آف مینڈمس جاری نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے واضح کیا کہ ججز کا ضمیر، ہمدردی یا ذاتی احساسات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے اور عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے دینے کی پابند ہیں، نہ کہ جذبات کی بنیاد پر۔فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان ایک آئینی ریاست ہے جہاں تمام ادارےبشمول عدلیہ، آئین اور قانون کے تابع ہیں۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کے داخلی اور انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت انتہائی محدود ہونی چاہیے کیونکہ تعلیمی پالیسی سازی عدالتوں کا نہیں بلکہ متعلقہ اداروں اور مجاز فورمز کا اختیار ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے اضافی ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو امتحان کے انعقاد کی نگرانی کا حکم دینا بھی قانون سے ماورا تھا، کیونکہ اس عہدے کو ایسی کوئی ذمہ داری تفویض نہیں کی جا سکتی جو قانون میں موجود نہ ہو۔وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں صرف اسی حد تک مداخلت کر سکتی ہیں جہاں کسی بنیادی حق کی واضح خلاف ورزی یا صریح قانون شکنی ثابت ہو۔
خصوصی یا اضافی امتحانات کے انعقاد کا حکم دینا عدالتی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کوئی عدالت اپنے فیصلے کی نظیری حیثیت کو خود محدود نہیں کر سکتی، کیونکہ عدالتی فیصلے عوامی ریکارڈ ہوتے ہیں اور مستقبل میں قانونی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ کسی فیصلے کو غیر نظیری قرار دینا عدالتی غیر یقینی اور من مانے پن کو فروغ دے سکتا ہے۔
آخر میں وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا، سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور طالب علم کی جانب سے دائر آئینی درخواست مسترد کر دی۔








