وفاقی آئینی عدالت نے ایران سے درآمد شدہ ہائیڈرو کاربن سے بھرے آئل ٹینکروں کو تین سال سے کسٹم تحویل میں رکھنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 15 روز کے اندر ان کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت کا ایرانی ہائیڈرو کاربن سے بھرے آئل ٹینکرز کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ایران سے درآمد شدہ ہائیڈرو کاربن سے بھرے آئل ٹینکروں کو تین سال سے کسٹم تحویل میں رکھنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 15 روز کے اندر ان کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تین سال سے آتش گیر مواد سے بھرے آئل ٹینکرز کو کسٹم حکام نے بند کر رکھا ہےاگر کسی کے سگریٹ جلانے سے آگ لگ گئی تو اس کی ذمہ داری کون اٹھائے گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئل ٹینکروں کو اس طرح طویل عرصہ تک کھڑا رکھنا انتہائی خطرناک عمل ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ کسٹم حکام کے اس اقدام کے باعث ٹینکروں کے ڈرائیور بھی بے روزگار ہو گئے ہوں گے۔
سماعت کے دوران کسٹم حکام کے وکیل وسیم سجاد نے مؤقف اختیار کیا کہ آئل ٹینکروں میں ایران سے پٹرول سمگل کیا گیا تھاجبکہ درآمد کنندگان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ٹینکروں میں ایرانی پٹرول نہیں بلکہ لائٹ ایلیفیٹک ہائیڈرو کاربن موجود ہے۔اس موقع پر جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیئے کہ یہ ایک بڑا کاروبار ہے اور ہائیڈرو کاربن میں مختلف کیمیکل ملا کر پٹرول تیار کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ آئل ٹینکروں میں موجود مواد کا 15 روز کے اندر لیبارٹری ٹیسٹ کرایا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر ٹیسٹ رپورٹ درآمد کنندگان کے مؤقف کے مطابق درست ثابت ہو تو مناسب سیکیورٹی کے عوض ٹینکروں کو ریلیز کیا جائے۔وفاقی آئینی عدالت نے مزید حکم دیا کہ لیبارٹری ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ فورم 30 روز کے اندر معاملے کا حتمی فیصلہ کرے۔








