کراچی۔ 21 جنوری (اے پی پی) حکومت کی اولین ترجیح خواتین کے ذہنوں سے خوف دور کرنا ہے تاکہ وہ اپنا تحفظ کرسکیں، ان کے ذہنوں سے معاشرتی خوف کہ ”لوگ کیا کہیں گے“ کو ختم کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی ادارہ محتسب برائے تحفظ جنسی استحصال و ہراسگی برائے خواتین کی محتسبہ کشمالہ طارق نے نیوپورٹس انسیٹیٹوٹ میں طلباءاور فیکلٹی ممبران سے اپنے ادارے فوسپا کی کارکردگی …
وفاقی ادارہ محتسب برائے تحفظ جنسی استحصال و ہراسگی برائے خواتین کی محتسبہ کشمالہ طارق کا نیوپورٹس انسیٹیٹوٹ میں خطاب

مزید خبریں
کراچی۔ 21 جنوری (اے پی پی) حکومت کی اولین ترجیح خواتین کے ذہنوں سے خوف دور کرنا ہے تاکہ وہ اپنا تحفظ کرسکیں، ان کے ذہنوں سے معاشرتی خوف کہ ”لوگ کیا کہیں گے“ کو ختم کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی ادارہ محتسب برائے تحفظ جنسی استحصال و ہراسگی برائے خواتین کی محتسبہ کشمالہ طارق نے نیوپورٹس انسیٹیٹوٹ میں طلباءاور فیکلٹی ممبران سے اپنے ادارے فوسپا کی کارکردگی سے آگہی کے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نیوپورٹس کی چیئرپرسن بخاری، ڈین ڈاکٹرعبدالرحمن، ڈاکٹراطہر اکبر اعوان نے بھی خطاب کیا۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ اس ادارے کے قیام سے خواتین کے حوصلے میں اضافہ ہوا ہے، یہ ادارہ معاشرتی چیلنج ہے، جس کا مقصد ایسے معاشرے کا قیام ہے جس میں خواتین و حضرات کو یکساں انصاف فراہم کرنا ہے، ہمارے ادارے میں 60یوم میں شکایت کافیصلہ کردیا جاتا ہے اور یہ ادارہ بطور عدالت کام انجام دیتاہے، سزا دینے معطل کرنے جیسے اقدام کرنے کو قانونی حیثیت حاصل ہے، ہمارے ملک میں خواتین ورک فورس کی کمی ہے، صرف خواتین کی ہراسگی استحصال کے کیسز ہی نہیں بلکہ مرد کو مرد اور عورت کو عورت یا مرد کو عورت اور عورت کو مرد کے خلاف ہراسگی کی شکایت کرنے کا برابر حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں مردوں کوبھی برابری کے حقوق حاصل ہیں، ہراسگی کے ذمرے میں بہت سی باتیں کرنا ہے جس میں ایس ایم ایس، زبانی کلامی خوف پیداکرنا، غیر ضروری طور پر کھانے اور چائے کی آفر کرنا، اشارے بازی، دفتر میں پرُ سکون ماحول کو ذہنی دباﺅکاشکار بنانا ودیگر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ادارے میں آن لائن بھی شکایت درج کرائی جاسکتی ہے اور 24گھنٹے میں ہمارادفتری عملہ رابطہ کرتا ہے اور شکایت رجسٹرڈ کی جاتی ہے، اس کے لئے کسی بھی وکیل کی خدمات حاصل کرنا ضروری نہیں ہے، شکایت کنندہ خود بھی اپنا کیس لڑسکتاہے، ہم وڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی انصاف فراہم کرتے ہیں تاکہ سائل کو اضافی اخراجات نہ اٹھانا پڑیں، انہوں نے کہا کہ مارچ 2018میں یہ عہد ہ سنبھالاہے، اس وقت ماہانہ 5شکایات رجسٹرڈ ہوتی تھیں اب تعداد 60سے زائد ماہانہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خواتین میں آگہی بڑھ رہی ہے،کشمالہ طارق نے مزید کہا کہ سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو چاہئے کہ وہ سیکسوئیل ہراسمنٹ کمیٹیاں یعنی جنسی استحصال کے تحفظ کی کمیٹیاں تشکیل دیں، تاکہ وہ اپنے طور پر شکایتوں کا ازالہ کرسکیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر مسئلہ کا حل نہیں ہوتا تو ہمیں کیس ارسال کردیں ہم 60دن میں اس کا فیصلہ کردینگے۔آخر میں کشمالہ طارق نے طلبا کے سوالات کے جواب بھی دئیے۔ چیئرپرسن نیوپورٹس ہما بخاری نے اپنے خطاب میں مہمان خاص کشمالہ طارق کا ان کی آمد پر شکریہ اداکیا اور کہا کہ انہوں نے جس طرح اپنے ادارے کی کارکردگی تشہیر کی ہے مجھے امید ہے کہ خواتین کی اگاہی کے مفید ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کہ ہمارے ادارے نیوپورٹس کی جانب سے ہر ممکن تعاون حاصل رہے گا۔ ڈاکٹر اکبر اعوان، ڈاکٹر اطہر اور ڈاکٹر عبدالرحمان نے خیر مقدمی کلمات میں نیو پورٹس انسٹیٹوٹ کی تعلیمی کاﺅشوں سے آگاہ کیا۔ نظامت کے فرائض ماہ نور علی نے انجام دئیے۔ آخر میں چیئر پرسن ہما بخاری نے کشمالہ طارق کو یاد گاری شیلڈ پیش کی۔








